امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ملک میں کورونا کے پھیلائو کے پیش نظر آئندہ دو ہفتوں کے لئے تمام سیاسی جلسوں کو موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے ریکارڈکے مطابق کورونا کی دوسری لہر خطرناک حد تک شدید ہے اس ہفتے اوسطاً یومیہ 46اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 7.0فیصد سے بڑھ چکی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک میں مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافے کی وجہ عوام کا غیر محتاط رویہ اور سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں ہزاروں افراد کی شرکت ہے۔ یہاں تک کہ جن شہروں میں جلسے ہوئے ان میں مریضوںکی شرح 22فیصد تک بتائی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں جلسے موخر کرنے کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں سے اپنے جلسے مئوخر کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں محض اپنے سیاسی ایجنڈے کی خاطر عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں یہاں تک کہ پشاور جلسے کے بعد اپوزیشن رہنمائوں بلاول بھٹو اورثمر بلور کورونا کے شکار ہو چکے ہیں مگر پی ڈی ایم اس کے باوجود جلسے کرنے پر بضد ہے ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کا جلسے موخر کرنے کا اعلان نہ صرف خوش آئند بلکہ پی ڈی ایم قیادت کے لئے باعث تقلید بھی ہے ۔بہتر ہو گا پی ڈی ایم کی قیادت عوام کی جانوں سے کھیلنے کے بجائے کورونا کے کنٹرول تک اپنے جلسے موخر کرے تاکہ عوام کو اس جان لیوا مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔