لاہور(سلیمان چودھری )لاہور کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں شمار ہونے والے جناح ہسپتال کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے ۔حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں طبی آلات کی تبدیلی ، بلڈنگ کی تزئین و آرائش ، بلڈنگ کے دیواروں میں پانی کے رسائو کے خاتمے اور ہسپتال کے واش رومز کی مرمت کے لیے انتہائی کم مختص کیے گئے ہیں ۔ہسپتال میں 807ڈاکٹروں ،نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی سیٹیں عرصہ دارا ز سے خالی پڑی ہیں ۔ہسپتال انتظامیہ نے 32کروڑ روپے کے اضافی فنڈزفراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔جناح ہسپتال لاہور میں 1500بستروں پر مشتمل ہے جو کہ علامہ اقبا ل میڈیکل کالج کے ساتھ منسلک ہے اس ہسپتال میں جنرل میڈیسن ، جنرل سرجری ، پیڈیاٹرک ، گائنی ، ڈرماٹولوجی ، کارڈیالوجی ، آنکالوجی ، ریڈیو تھراپی ، کارڈیک سرجری ، پلاسٹک سرجری ، فزیو تھراپی ، ڈینسٹری ، نیورو سرجری سمیت دیگر شعبے کام کر رہے ہیں ۔ اس ہسپتال میں میں علاج معالجے کے علاوہ سول ورکس اور مشینوں کی خریداری و مرمت کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کم بجٹ مختص کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے علاج معالجہ شدید متاثر ہوتا ہے ۔ چند ماہ قبل پنجاب انفرا سٹریکچر ڈوپلمنٹ اتھارٹی نے اس ہسپتال کے پوری بلڈنگ کا آڈٹ کیا تھا تو یہ بات سامنے آئی تھی کہ عمارت میں بے ترتیب واش رومز کے قیام کی وجہ سے دیواروں میں پانی کا رساو ہو رہا ہے اور دیوارو ں کی خستہ حالی کی وجہ سے بلڈنگ اپنی 32فیصد معیا دکھو بیٹھی ہے ۔ایم ایس کی جانب سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو خط لکھا گیا جس کے مطابق ہسپتال کی بلڈنگ کی دیواریں خستہ حال ہو رہی ہیں اور پانی کا رساو بڑھتا ہی جا رہا ہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لے ے متعدد بار کوششیں کی گئیں لیکن اس پر قابو نہ پایا جا سکا ۔ہسپتال میں واش رومز کی از سر مرمت اور پانی کے بہائو کو روکنے کے لیے ایک پی سی ون جس میں اس منصوبے کی لاگت 12کروڑ روپے لگائی گئی ہے اس کو سالانہ ترقیاتی پروگرامز میں شامل نہیں کیا گیا تاہم اس کو ضروری سمجھتے ہوئے منظورکر کے بجٹ جاری کیا جائے تاکہ عمارت کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے ۔حکومت کی جانب سے ہسپتال کی بلڈنگ کی مرمت کے لیے صرف ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو ناکافی ہیں ۔ حکومت کم از کم 10کرو ڑ روپے فوری جاری کرے ۔حکومت کی جانب سے ہسپتال میں نئی مشینری کی خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ہسپتال کے اندر 40شعبے کام کر رہے ہیں جہاں پر طبی آلات اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور پرانے ہو گئے ہیں اس لیے فوری طور پر 10کروڑ روپے نئے طبی آلات کی خریداری کے لیے ضروری ہے تاکہ علاج معالجہ تیز اور بہتر ہو سکے ۔ حکومت کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کی وجہ سے علاج معالجہ متاثر ہو رہا ہے اس وقت 3415افراد کی سیٹیں منظور ہیں جن میں سے اس وقت 2ہزار708پر بھرتی ہے اور 807سیٹیں خالی پڑی ہیں ۔ہسپتال میں پیرا میڈیکل سٹاف ، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ ، ڈسپنسر ، لیب اسسٹنٹ ، ٹیکنیشن ، الٹرا ساونڈ ٹیکنیشن ، سٹاف نرسز ، وارڈ بوائے ، وارڈ آیا جیسوں کی اشد ضرورت ہے اس لیے حکومت 32کروڑ کے فنڈز فراہم کرے اور بھرتیوں پر پابندی ختم کر کے ہسپتال میں بھرتیوں کی اجازت دے ۔