92نیوز کو انٹرویو کے دوران وزیراعظم گجر پورہ زیادتی واقعہ پر مغموم دکھائی دیئے اور انہوں نے جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سانحہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بچوں کے سامنے والدہ کی بے حرمتی نے صدمے کو دو چند کردیا ہے۔ وزیراعظم نے اس امر کی بھی حمایت کی کہ زیادتی میں ملوث افراد کو جنسی طور پر ناکارہ بنانے کی سزا ہونی چاہیے۔ وزیراعظم ریاستی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وزیراعظم کا اظہار افسوس اور مجرموں کو سخت ترین سزائیں دینے کی آرزو بجا لیکن یہ معاملہ حکومت اور سماجی ماہرین کو دعوت دیتاہے کہ وہ سزائوں کے موجودہ نظام پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔شہریوںکی جانب سے گجرپورہ زیادتی واقعہ اور روزانہ ایسے واقعات کی تعداد بڑھنے پر غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد میں سماجی اور شہری تنظیموں کی طرف سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں بچوں‘ بچیوں اور خواتین کی بے حرمتی کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس تفتیش اور نظام انصاف کی کمزوریاں دور کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ان مظاہروں اور ذرائع ابلاغ پر نمودار ہونے والے ردعمل سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ سزائوں کے نظام کو موثر بنایا جائے۔ سزائوں کا موجودہ نظام قانونی کمزوریوں کے باعث مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مظلوم خاندان سماج میں بدنامی کے خوف سے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت جنسی زیادتی میں ملوث مجرموں کو نامرد بنانے کا قانون لانے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اطلاع ہے کہ وزیراعظم نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جبکہ ایک وفاقی وزیر بل کے مسودے پر کام شروع کر چکے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے ایسے مجرموں کو پھانسی دینے کی مخالفت کی تو حکومت انہیں نامرد بنانے کا بل لائے گی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں سزا کی شرح محض 2 فیصد ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں سزا کی شرح اس سے بھی کم ہو جاتی ہے۔ جنسی جرائم سے معاشرے میں بدنامی کا خوف جڑا ہوا ہے۔ پھر فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کا نظام ہے جو خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مقدمات زیر سماعت آتے ہیں تو مجرم بھی دھونس‘ کبھی پیسے اور کبھی سماجی دبائو کے ذریعے مظلوم کو صلح پر مجبور کردیتے ہیں۔ وکلا قانونی موشگافیوں سے قصور وار افراد کو سزا سے بچا لیتے ہیں۔ زیادتی کا واقعہ رونما ہونے کے بعد سماجی اور قانونی نظام کی ایک زنجیر ہے جو حرکت میں آتی ہے ،اس کی کڑیاں افراد اور اداروں سے بندھی ہیں۔ یہ افراد اور ادارے اپنا کام ذمہ داری سے انجام نہیں دیں گے تو مجرموں کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ ایک کے بعد دوسرا بھیانک جرم کرتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ واقعہ میں ملوث افراد کئی بار اس گھناونے جرم کا ارتکاب کرنے کے باوجود بچ گئے۔جنسی جرم کے ارتکاب پر نامرد بنانے کی سزا معاشرے کی عمومی ضروریات سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ایسا شخص جو مزاجاً قانون شکن ہے اور معاشرے کے لیے مسلسل درد سر بنا ہوا اسے نامرد بنانے کی سزا سے یہ فرض کر لینا کہ وہ باقی جرائم سے رک جائے گا قابل یقین نہیں۔ ایسا شخص قتل‘ ڈکیتی اور دیگر بھیانک وارداتوں کے ذریعے سماجی امن کے لیے متواتر خطرہ بنا رہے گا۔ بعض حلقوں کا یہ اعتراض بے جا نہیں کہ طبی عملہ ہر قسم کے سرٹیفکیٹ جاری کردیتا ہے۔ نامرد بنانے کا عمل بہرحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہوگا۔ اس صورت میں ڈاکٹروں کو رشوت دے کر اگر مرضی کی رپورٹ بنوا لی گئی تو سزا کے موثر ہونے کا نظام ایک بار پھر ناکام ہوسکتا ہے۔ پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نامرد بننے کے بعد بھی یہ لوگ خواتین کو ہراساں نہیں کریں گے۔ یورپ کے ممالک میں یقینا اس طرح کی سزائوں سے زیادتی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن پاکستانی سماج کی ساخت اور مزاج مختلف ہے۔ بعض حلقے پھانسی کی سزا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے جوڑ رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پھانسی کی سزائوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تو یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے پر پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک جو آسان رسائی ملی ہے وہ ختم کردی جائے گی۔ جی ایس پی پلس کی رعایت 2023ء تک پاکستان کو حاصل ہے لیکن اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اتنے برسوں میں پاکستانی مصنوعات کو اس رعایت کا کیا فائدہ ہوا۔ پیداواری عمل کمزور ہونے اور حکومتوں کی غلط ترجیحات کے باعث پاکستان کے برآمد کنندگان اس رعایت سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس صورت حال میں جی ایس پی پلس کو جواز بنا کر سنگین جرائم میں ملوث افراد کو پھانسی نہ دینا کسی طرح دانشمندانہ نہیں۔بعض با اثر افراد اس معاملے کو سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرنا چاہتے اور سزاوں کا نظام غیر فعال رکھنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ پھانسی عادی مجرموں اور معاشرے کے عمومی امن کے لیے خطرہ بننے والوں کے لیے مناسب سزا ہے۔ وطن عزیز میں جہاں سینکڑوں طرح کے انتظامی اور قانونی تجربے کئے گئے وہاں آزمائشی بنیاد پر ہی سہی اگر پانچ سال کے لیے پھانسی کی سزا مقرر کردی جائے تو اس میں کسی طرح کا شک نہیں کہ معاشرہ درندوں سے پاک ہوسکتا ہے ۔جس معاشرے میں اصلاح کے ادارے اور نظام پوری طرح ناکام ہو جائے وہاں شہریوں کے مال‘ جان اور آبرو کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین سزائیں ضروری ہو جاتی ہیں۔حکومت کے پیش نظر اگر صرف عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنا ہے تو جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کے لئے پھانسی کی سزا بحال کر دی جانی چاہئے ۔