مذہب کی ضرورت تو بہرحال رہتی ہے۔ تسلیم یا عدم تسلیم کا اختیار تو انسان کا نفس ازخود حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔زندگی کی ابتدا ولادت سے ہوتی ہے اور انتہا موت پر ہوتی ہے۔ پھر ایک نئی سوچ‘نئے انداز‘ نیا جہاں‘نئے معمولات اور نئے سماج سے واسطہ پڑتا ہے‘ پھر نجانے کتنے زمانے گزرتے ہیں۔ ان زمانوں کے سفر میں روزمرہ کا معمول ہے کہ لاکھوں انسان جنم لیتے ہیں اور لاکھوں بتدریج سفر فطرت کی ہمنوائی کرتے ہوئے قبر اور حشر کی منازل کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔ مذہب حقیقت آشنائی کے لئے دائمی رہنما ہے۔ پھر مذہب کی شناخت کے لئے بھی ایقان کی ضرورت بہرحال رہتی ہے ایقان کی دنیا میں روح کی قوت کی کارفرمائی ہے اوراس قوت کی نعمت محض مجلیٰ اور مصفیٰ روح کو نصیب ہوتی ہے۔ اس مطلوبہ نعمت کے حصول کے لئے دائمی اور ہدایت یافتہ روشنی کی ضرورت ہے۔ جو روشنی دلوں کو متحرک کر دے اور انسانی زندگی کے جملہ مراحل ایمان کو اتنا تابناک کر دے کہ شیطانی وسواس شکستہ پا ہو کر ایمان کی دولت پر ڈاکہ زنی سے باز آجائیں۔ خالق فطرت اور مالک حیات نے اپنے نظم ہدایت میں اسی بلند ترین مخلوق کو محور ہدایت بتایا ہے جسے محمد ﷺ کا نام و منصب عطا فرما کر جوہر ایمان بنا کر بھیجا ہے۔ یہی سرکارﷺ نظم کائنات میں رحمت نما ہیں اور اسی رحمت کا حلقہ پوری کائنات پر ضوء فشاں ہے۔ اسی رحمت کے جلووںنے امیدوں کے سلسلے قائم رکھے ہوتے ہیں۔ انسانیت کی صالحیت اور شرف دائمی وسیلہ ہے۔ دلوں پر ناامیدی کا غبار آتا ہے تو منزل ایمان غائب سی نظر آتی ہے۔ یقین پر موت منڈلاتی ہے۔ خدا فراموشی کا یہ پہلا قدم ہوتا ہے اور پھر انسان اپنے فکر میں ڈانوا ڈول ہوتا ہے۔ پائے استقامت میں لغزش درلغزش عود آتی ہے۔ اگر قسمت یاوری کرے تو کسی مرکز یقین اور بزم انوار کی جانب پلٹنے کا احساس دامنگیر ہو کر روشنی کا دروازہ وا کرتا ہے۔میر میران امم ہی کو سراجاً منیراً قرآن نے فرمایا۔ اب روشنی کے دوام کا مرکز یہی سید الانبیاء و المرسلین ہیں۔ خفتہ دلوں کو خوشگوار اور امید افزا بیداری عطا فرماتے ہیں۔ ہر سوتا بخت انہی کے کرم سے التجائے بیداری کرتا ہے۔ امیدوں کا مرکز آخر میں مدینتہ النبیﷺ ہی نظر آتا ہے۔ ایک بدو تھا‘ بظاہر سادہ لوح اور نظر انداز طبقہ حیات کا ایک نمائندہ فرد تھا۔ روح اس کی محبتوں کی اقدار سے روشن تر تھی۔اپنی دنیا کو قابل عزت اور اپنی آخرت کو لائق اعزاز بنانے کے لئے ایک ہی نسخہ کیمیا اس کی عقیدت کی پونجی تھی کہ وہ اپنی مغفرت طلبی کے لئے قدمین شافع محشرﷺ تک پہنچ جاتے۔ بدو حاضر ہوا تو اس کی دنیا میں ایک نیا تغیر تھا۔ معلوم ہوا کہ آقائے دوجہان اب مزار اقدس میں استراحت فرما ہیں۔ اعتقاد کا استحکام اس کی دل کی عزیمت تھا اور ایمان افروزی میں مسلسل اضافہ تھا۔ قبر انور پر کھڑا ہوا اپنا استغاثہ عرض کر رہا تھا کہ… ’’خدا کا وعدہ ہے کہ جو شخص اپنی جانوں پر ظلم کر کے قصر ذلت میں بھی اتر جائے اور پھر وہ اپنی نجات دائمی کے لئے اے حبیب ﷺآپ کی بارگاہ بے کس پناہ میں بغرض کرم حاضر ہو اوربارگاہ الوھیت میں اپنی بخشش کے لئے عرض کرے پھر آپﷺ بھی اس حاضر باش کے لئے بارگاہ مغفرت پناہ میں اس کی بخشش کے لئے دعا گو ہوں تو رحمت و قبولیت توبہ کا دروازہ کھل جائے گا اور خدائے عزوجل کی پے درپے رحمت اس طالب مغفرت کو اپنی آغوش میں لے لے گی۔بدو کے استغاثے میں یقین کی قوت کارفرما تھی۔ روضہ اقدس سے اس کے استغاثے کی قبولیت کی صدا برآمد ہوئی۔ یہی ایک تڑپ ہے اور اسی تڑپ نے ہمیشہ امیدوں کے حلقہ ہائے کمال میں محصور رکھا ہے مذہب کی تمامتر کاوشیں۔ عقیدت کے تمام مضبوط بندھن کچھ کام نہیں آتے جب تک مغفرت کی تائید اس بارگاہ کرم بالائے کرم سے میسر نہ آ جائے۔ یہی ایک عقیدہ کہ تمام عقائد کی تائید و تصویب غلامی رسول ﷺ سے جڑی ہوتی ہے نجات اخروی کا سبب بنتی ہے۔ اپنے اعتقادی حسن کو تو داد ہی اسی صورت نصیب ہوتی ہے جب عشق رسول ﷺ کے جلوے دلوں کو نشاط بخشیں۔ ظاہر و باطن کے حالات و خیالات کا ایک نظری ‘فکری ‘اعتقادی اور حقیقی ایمانی مرکز وہ طیبہ ہے جہاں خالق ارض و سماء کے محبوب اکرم ﷺ اسی طابہ مکرمہ میں آرام فرما رہے ہیںاورارضی و سماوی مخلوقات سلام و آداب بجا لانے کے لئے اس شہر دلبر میں جوق در جوق مستانہ وار زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ دریائے محبت میں طغیانیاں اٹھتی ہیں۔ قدم اٹھتے نہیں کہ دستگیری کے لئے رحمت زا قوتیں کرم فرمائی کرتی ہیں۔یہ وسیلہ حق خالق کونین کا عطا فرمودہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ رحمت محمدیہ ﷺ کی گردش سے قرار پا رہا ہے‘ دل مضطرکا قرار بھی اسی وسیلہ حقہ کی بدولت ہی ہے۔ مدینہ عالیہ کی حاضری اور پھر مواجہ مقدسہ پر حضوری کی سعادت مغفرت کا سندیسہ ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی سرخیل عشاق ِ رسول ﷺ ہیں۔ بہت سادہ پیرائے میں مقصود حاضری کا بیان کرتے ہیں۔ کمال درجے کا یہ شاعر بے بدل ہے‘قرآن سے استنباط کرتا ہے بس ایک ہی مصرع ذہن سے زبان پر منتقل ہوا… ع مجرم بلائے آتے ہیںجآوک گواہ علم و تقویٰ سپرڈال کر بیٹھ گئے۔ صالحیت بے قیمت ہونے کا اعتراف کرتی ہے۔ مسجد شریف میں لرزید قدموں کے ساتھ‘ جھکی نگاہوں میں اظہار شرمندگی‘ خیالات میں بداعمالیوں کا امڈتا تذکرہ ‘اعتراف ضعف کے ساتھ یہ سراپا اپنے جرم و عصیاں کی نوشت پر رحمت مصطفی ﷺ کا پانی پھروانے کے لئے حاضر ہوا۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ عرض کیا کروں؟کیسے کروں کہ بارگاہ سلطان کونین ہے ستر ہزار ملائکہ عرش بلند سے چاکری کے لئے دربار محبوب الٰہ کا احاطہ کئے ہوتے ہیں۔ گویا … ع قدسی کھڑے ہیں عرش معلیٰ کے سامنے مجھے مناظر احسن گیلانی کی سرگزشت سلام حاضری بھی یاد آتی ہے‘ دربار نبوت کی حاضری میں کچھ اس انداز کی بات کرتے ہیں۔ ’’معلم نے کہا کہ سلام عرض کرو۔دل کی اعماق وادیوں سے جواب موصول ہوا کہ کون کس کو سلام عرض کرے یہ بارگاہ انوار ہے‘تجلیات نے یہاں سے پھیلائو کا سلیقہ سیکھا ہے۔انوار کی کائنات میں چکا چوند حدود و تفور سے ماورا ایک کائنات ہے اور اسلام عرض کرنے والا ایک سیاہ دھبہ۔اس حقیقی احساس اور مسلّم اعتراف کے بعد تسلیمات کا دروازہ کھلنا ہے۔ متعصب کا مقصد بلند بھی سہی ہے۔