اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) وزیرِ اعظم عمران خان کے زیر صدارت ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر عشرت حسین، گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، سیکرٹری خزانہ ،چیئرمین ایف بی آر و دیگر افسران شریک تھے ۔اجلاس میں ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال اور ان میں مزید اضافے کے لئے مجوزہ تجاویز و اقدامات پر غورکیاگیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے جولائی 2020میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں واضح اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک و قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر کے حوالے سے بیرون ملک پاکستانیوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ ترسیلات زر اور ملکی زر مبادلہ میں اضافے کے لئے مزید اقدامات تجویز کئے جائیں تاکہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ملکی معیشت کے استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستانی معیشت کے لئے ایک اورخوشخبری آگئی کہ جولائی 2020 میں سمندرپار پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلاتِ زر 2.76 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں جوملکی تاریخ میں 1 ماہ میں بھجوایاجانے والا سب سے زیادہ سرمایہ ہے ،یہ ترسیلاتِ زر جون 2020کی نسبت 12.2فیصد جبکہ جولائی 2019 کی نسبت 36.5فیصد زیادہ ہیں۔سٹیٹ بینک کے مطابق جولائی میں سعودی عرب سے 82 کروڑ ، متحدہ عرب امارات سے 53.82 کروڑ ڈالر ترسیلات موصول ہوئیں، برطانیہ سے جولائی میں ترسیلات زر کا حجم 39 کروڑ ڈالر رہا اور امریکہ سے جولائی میں ترسیلات زر کا حجم 25 کروڑ ڈالر رہا۔مزیدبرآں وزیراعظم کے زیرصدارت اجلاس میں توانائی شعبے میں اصلاحات سے متعلق لائحہ عمل کاجائزہ لیا گیا۔ عمران خان نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں متفقہ تبدیلیوں کے بارے میں کہا کہ قیمت میں کمی سے گردشی قرضہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا پاور سیکٹر سے ملکی معاشی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے اور شعبہ کی فوری اوور ہالنگ و اصلاحات کا عمل صارفین پر دبائو کم کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ وزیراعظم نے وزیر توانائی کو بھی ہدایت کی کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں سے عوام کو آگاہ کیا جائے ۔دریں اثناء وزیراعظم کے زیرصدارت ایم ایل ون منصوبے کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا جس میں شیخ رشید، اسد عمر، حفیظ شیخ، عاصم باجوہ نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے کہا ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا سب سے اہم اور کلیدی منصوبہ ہے ،اس سے نہ صرف ریلوے کا نظام جدید اور مضبوط ہوگا بلکہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے ہنرمندوں اور تربیت یافتہ افراد کے لئے نوکریوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی عمل کو فروغ ملے گا،ایم ایل ون منصوبے سے سماجی و معاشی ترقی کا نیا باب روشن ہوگا۔انہوں نے کہا ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کے تعین میں ہمارے پیش نظر عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی ہے ۔