ممبئی (نیٹ نیوز )جھاڑکھنڈ پولیس نے ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے والے تبریز انصاری کے معاملے میں دائر کی جانے والی چارج شیٹ سے قتل کا الزام ہٹا دیا ہے ۔بی بی سی کے مطابق چارج شیٹ سے قتل کا الزام ہٹانے کی یہ دلیل دی گئی ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تبریز کی موت حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی تھی۔بائیس سالہ تبریز انصادی کو 18 جون کو جھار کھنڈ میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کچھ لوگوں نے تبریز کو چوری کے الزام پکڑ کر کھمبے سے باندھ کر گھنٹوں تشدد کیا تھا۔اس تشدد کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں تشدد کے دوران تبریز سے 'جے شری رام' اور جے ہنو مان کے نعرے لگواتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔ویڈیو میں تبریز انصاری اپنی جان کیلئے بھیک مانگ رہے تھے جبکہ ان کے چہرے پر آنسو اور خون بہتا نظر آ رہا تھا۔کئی گھنٹوں کی مار پیٹ کے بعد تبریز کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا پولیس نے انہیں حوالات میں بند کر دیا اور ان کے اہلخانہ کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا۔ چار دن بعد تبریز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔تبریز کے خاندان کا الزام ہے کہ زخموں کے باوجود پولیس نے انہیں ہسپتال نہیں بھیجا جبکہ دوسری طرف ریاستی پولیس نے کسی قسم کی غفلت سے انکار کیا تھا۔