بہترین کو داد نہ ملے اور کمتر کی تادیب نہ ہو تو آبِ زر سے لکھا ہوا کوئی نظام بھی نامراد رہے گا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل ہنسے اور بولے ’’روسی ماہرین اس کے لیے درآمد کرنا ہوں گے‘‘۔ سوال ان سے یہ کیا تھا کہ کس طرح اور کیونکر سول سروس بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ کپتان جب سے اقتدار میں آیا ہے،کچھ بحران مسلسل قائم ہیں۔ اب تو خیر کورونا کا زہریلا سایہ ہے لیکن اس سے پہلے بھی معاشی پالیسیوں کے بارے میں الجھاؤ ہمیشہ قائم رہا۔ نئی حکومت کے آتے ہی معاشی سرگرمیاں محدود ہونے لگیں۔ سرمایہ کار خوفزدہ تھا۔ کالا دھن سفید کرنے کا سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا تھا۔ اب اور بھی سنگین ہو گیا۔ اس کی وجہ وزیرِ اعظم کی طرف سے احتساب کا نعرہ تھا اور اس کی مسلسل تکرار۔سالہا سال پیپلزپارٹی اورنون لیگ کے خلاف نفرت کی مہم چلا کر، خان صاحب نے ایک خاص اندازِ فکر اپنے فدائین میں پیدا کر دیا تھا۔ انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ دوسرے جانداروں کے برعکس انتقام کا بیج اگر اس کے دل میں بو دیا جائے، اس کی آبیاری کی جاتی رہے، رفتہ رفتہ اس کی جڑیں گہری ہو جاتی ہیں۔ جب انتقام کا شجر تناور ہو جائے تو اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں کو ادراک نہیں تھا کہ سرمایہ بہت حساس ہوتا ہے۔ خوفزدہ ہو جائے تو راہِ فرار اختیار کرتا اور چھپ جاتا ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں ایسا ہو چکا تھا اور پیہم یہ عمل جاری تھا کہ خوف کی نئی لہر نے ستم ڈھایا۔ یہ احساس اور یہ ادراک بھی لیڈر اور اس کے ساتھیوں میں نہیں تھاکہ خوف ایک ایسا ہتھیار ہے،سوچ سمجھ کر، جو بہت احتیاط کے ساتھ برتنا چاہئیے ورنہ ہدف میں وہ بے زاری اور ردّعمل پیدا کرتا ہے۔ جوابی طور پر نقصان پہنچانے کی آرزو۔ کاروباری طبقے، میڈیا اور سول سروس میں یہی ہوا۔ ایک طرف آئے دن کی دھمکیاں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کی یلغار۔ خان صاحب کے اردگرد نالائق ساتھیوں کا ہجوم۔ خوب یاد ہے کہ ایک ٹی وی مذاکرے میں کالے دھن پہ بحث جاری تھی۔ عرض کیا کہ پاکستان کی آدھی معیشت غیر دستاویزی ہے۔ نیب کی تلوار سروں پہ لٹکی رہی تو بہت سا سرمایہ گھروں میں جا چھپے گا۔ خان صاحب کے وزیر نے ارشاد کیا: جا چھپے، ہمیں اس سے کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ مالِ حرام مارکیٹ سے غائب ہو جائے۔ جھنجھلا کر عرض کیا: قبلہ آپ کو کچھ پتہ ہے کہ معیشت کس چڑیا کا نام ہے۔ پیسہ ہی غائب ہو گیا تو کمپنیاں کہاں رہیں گی۔ معیشت کے پہیے کی رفتار مدھم ہو جائے تو بھوک اور بے روزگاری بڑھے گی۔ اس پر وہ گھبرا گئے اور بولے: آپ سمجھا دیجیے۔ ٹی وی مذاکرے میں کیا میں انہیں معیشت پر لیکچر دیتا۔ یہ وہ صاحب ہیں، جن سے ان کا نام پوچھا جائے تو پہلے وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہیں، پھر درود شریف اور اس کے بعد بتاتے ہیں کہ وہ فلاں ابنِ فلاں ہیں۔ ایک بار ان سے کہا: اصحابِ رسولؓ اور اولیائے کرامؒ کا دستور یہ نہ تھا۔ وہ جوواقعی اہلِ تقویٰ تھے، سوال کے جواب میں اونچی آواز میں وہ بسم اللہ اور درود نہ پڑھا کرتے تھے۔بولے: میں تو پڑھوں گا اور پھر درود کے فضائل بیان کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے پہلو میں بیٹھے ایم کیو ایم کے لیڈر نے بات اچک لی اور کہا کہ آئندہ سوال کا جواب دینے سے پہلے وہ بھی درود پڑھا کریں گے۔الجھے ہوئے ذہن جو سادہ سے اصولوں کا ادراک بھی نہیں رکھتے۔ وہ قرینے کہ ایک عام سے مسلمان کو بھی جن کا ادراک ہونا چاہئیے۔ ایسے ہی لوگوں کے درمیان خان صاحب گھرے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ سول سروس کے قوانین میں ترمیم نیا شاہکار ہے۔ اوّل تو افسروں پہ سختی کی گئی۔ خان صاحب کے حامیوں یا بعض کے ذاتی مخالفین نے شور شرابا شروع کیا کہ فلاں اور فلاں شریف خاندان کے قریب رہے ہیں۔ چند وقفوں کے سوا،35سال سے شریف خاندان اقتدار میں ہے۔ لگ بھگ دو عشرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سول سروس کی بربادی میں شریف خاندان کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ بھٹو ڈرائے رکھتے لیکن ایسا نہیں تھا کہ نالائق کو لائق پہ ترجیح دیتے ہوں۔ آخری درجے کے خود پسند اور نرگسیت کے مارے تھے۔ خوشامد انہیں بھی خوش آتی لیکن پڑھے لکھے تردماغ آدمی۔ قوت متخیلہ سے مالا مال۔ دنیا دیکھی تھی۔ کارِ سرکار کاتجربہ بھی۔ اس عہد میں، سول سروس جب زیادہ نہ بگڑی تھی، بالکل برعکس شریف خاندان لین دین کے سوا کسی بھی چیز کا تجربہ نہ رکھتا تھا۔ وہ ذاتی وفاداری کا مطالبہ کرتے۔ بے شک نتائج کا بھی مگر اس کے ساتھ ذاتی وفاداری۔ افسر شاہی ایک گھڑے کی مانند ہے۔ سوار سلیقہ مند ہو تو جہا ں اور جس طرح چاہے اسے لے جائے ورنہ وہ اسے گرا دے گا۔ پی ٹی آئی سمیت اکثر سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ سیاست ان کے خیال میں شعبدہ بازی ہے۔ اپنے لوگوں کی تربیت وہ ہرگز نہیں کرتے۔وزرائے کرام اور لیڈرحضرات جانتے ہی نہیں کہ سرکاری ادارے کام کس طرح کرتے ہیں۔ان کے خم و پیچ اور اسالیب سے وہ آشنا ہی نہیں۔ 2013 ء میں پختون خوا کی حکومت خان صاحب کو مل گئی تھی۔ پانچ سال ان کے پاس پڑے تھے۔ صوبے میں سیکھتے اور اپنے کارکنوں کو سکھاتے۔ ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل، اوردوسرے سرکاری اداروں کا پہلے سے مطالعہ کیا ہوتا۔ زراعت، صنعت کاری اور عالمی تجارت کا بھی۔ پڑھے لکھے حامیوں کا فقدان نہ تھا۔رضاکارانہ خدمات سرانجام دینے پر وہ آمادہ تھے بلکہ بے تاب۔ مختلف سرکاری محکموں کے لیے تین چار سو پڑھے لکھے نوجوانوں کی تربیت کی ہوتی تو روزِ بد سے واسطہ نہ پڑتا۔ حال تو مگر یہ تھا کہ ٹکٹ تقسیم کرنے کی ذمہ داری بھی دوسروں کو سونپ دی۔ خیرخواہوں کو الٹا یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ لیڈر اگر دیانت دار ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیاقت علی خاں، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، سکندر مرزا، فیروز خان نون اور غلام محمد کیا ایماندار نہ تھے؟ غلام محمد کو تو قائدِ اعظمؒ ذاتی طور پر حیدر آباد دکن سے لائے تھے۔ سات ہزار روپے ماہوار کی تنخواہ سے دستبردار ہو کر تین ہزار روپے قبول کر لیے تھے۔ فقط دیانت کافی نہیں ہوتی۔ کاروبارِ حکومت چلانے کے لیے اہلیت چاہئیے۔ ہر شخص کو اللہ ایک ہنر عطا کرتا ہے، ایک الگ ہنر۔ سیدنا ابو ذر غفاریؓکے بارے میں رسولِ اکرم ؐکاارشاد یہ ہے ’’زمین نے بوجھ نہیں اٹھایا اور آسمان نے سایہ نہیں کیا، بو ذر سے سچے آدمی پر۔ مگر انہیں منصب دینے سے انکار کردیا تھا۔ زہد وتقویٰ کا یہ پیکرحکمرانی کے لیے نہیں بنا تھا۔ سول سروس کے جو نئے قواعد خان صاحب نے روشناس کرائے ہیں، وہ ناقابلِ عمل ہیں۔ بائیسویں گریڈ والوں کو استثنا دے دیا گیا۔ اکیسویں گریڈ کا افسر برطرف ہو سکتاہے مگر قواعد کے مطابق فیصلہ اس کی تین سالہ کارکردگی پر ہوگاورنہ عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں۔ ایک دیہاتی لڑکا فوج میں بھرتی ہو توسال بھر کے بعد آپ اسے بدلا ہوا پاتے ہیں۔ نظام کے سانچے میں ڈھل نہ سکے تو الگ کر دیا جاتا ہے۔سول سروس میں یہ کیوں ممکن نہیں؟ انگریزوں کے دور میں ممکن تھا تو اب کیوں ممکن نہیں۔ جزا، سزا، خدا کے بندو، جزا و سزا پر کائنات کا نظام قائم ہے۔ بہترین کو داد نہ ملے اور کمتر کی تادیب نہ ہو تو آبِ زر سے لکھا ہوا کوئی نظام بھی نامراد رہے گا۔