بدھ کی صبح ٹی وی اسکرینوں پر دکھایا گیا کہ ہاتھ میں چھڑی لیے ایک ادھیڑ عمر خاتون مسز سیرینا عیسیٰ ایف بی آر کے دفتر میں داخل ہو رہی ہیں۔ خبریں آئیں کہ ایک مرتبہ پھر منی ٹریل دیدی گئی۔ اسکے باوجود شام کے وقت ایف بی آر کو دیا گیا بیان میڈیا میں جاری کرنا ضروری سمجھا گیا، کہا گیا انکے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس لیے اپنا بیان پبلک کر رہی ہیں۔ سرینا کھوسو عیسیٰ صاحبہ اپنی تمام تر توانائیاں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے پر صرف کریں تو عین ممکن ہے مقدمہ خود بخود ختم ہو جائے۔ انہیں یہ بتانا ہے کہ جواب دینے کی بجائے آپ ایف بی آر کے افسران کو غیر متعلقہ سوالات میں الجھا رہی ہیں۔ ایف بی آر کو دی گئی تفصیلات میں کہیں بھی بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جائیدادیں خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی۔ میڈیا کو جاری شدہ بیان میں موقف اپنایا گیا کہ خاص برتاو کی طلبگار نہیں ہیں جبکہ دیکھا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹیز کو مطمئن کرنے کی بجائے محترمہ الٹا ان سے سوالات کر رہی ہیں جبکہ اصولاً آپ جس ملک کی شہری ہیں اس ملک کے آئین و قانون سے ماورا ہرگز نہیں ہیں۔ بطور ایک سائل آپ کو تمام سوالات کے جواب دینا پڑتے ہیں۔ ہر شہری کو بتانا ہوتا ہے کہ بیرون ملک جائیداد اس نے جس رقم سے خریدی اس رقم کا سورس کیا تھا۔ صرف بیان کر دینا ہی کافی نہیں ہوتا کہ میںایک قابل جج کی اہلیہ اور انتہائی پڑھی لکھی خاتون ہوں۔ محترمہ نے منی ٹریل کی تعریف پر سوالات تو اٹھا دیے ہیں تاہم اس رقم کے ذرائع نہیں بتائے جس سے جائیدادیں خریدی گئیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے محترمہ سرینا عیسیٰ کو تمام تر تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی حکم کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس دائر ہوا، انہوں نے بھی وزیراعظم، صدر مملکت، اٹارنی جنرل، وزیر قانون حتی کہ چیف جسٹس آف پاکستان پر الزامات لگائے۔ ایف بی آر کو دئیے گئے سرٹیفکیٹ میں یہ تو بتایا گیا کہ غیر ملکی بینک اکاونٹ میں چھ لاکھ پائونڈ موجود تھے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ چھ لاکھ پائونڈ آئے کہاں سے تھے۔ آپ سے پوچھا گیا بنیادی سوال کہ 2014 تک آپ کی جانب سے ایف بی آر میں جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) میں لندن کی جائیدادوں کا ذکر تک نہیں ہے۔ اسکا جواب تاحال نہیں آیا، نا ہی آپ کے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ان جائیدادوں کو ظاہر کیا۔ جواب دینے کی بجائے آپ مختلف لوگوں پر الزامات در الزامات عائد کیے جا رہی ہیں۔ اطمینان رکھیں اگر ان افراد نے کچھ بھی غیر قانونی کام کیے ہیں اسکی سزا انکو ضرور ملے گی۔ مگر خود پر لگائے گئے الزامات کا جواب قانونی طریقے سے دیا جاتا ہے نا کہ الزامات سے۔ سال 2019 کے مئی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر ہوتا ہے۔ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود الزامات کا جواب نہیں دیا گیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا ہے آپ بنفس نفیس خود ان الزامات کا جواب دیتیں۔ مگر اس سارے معاملے میں خود کو مظلوم ظاہر کرنے کیلئے جوابی الزامات کی بارش کر دی گئی۔ آج بھی دیکھا جائے تو بنیادی سوال اپنی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔ مانا کہ یہ فلیٹس آپ کے اور آپ کے بچوں کے نام پر ہیں، لیکن جن پیسوں سے یہ فلیٹس خریدے گئے ہیں وہ کہاں سے آئے ہیں اسکا جواب ابھی آنا باقی ہے۔ طویل عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے باوجود سادہ سے سوال کا جواب نا دے سکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہاں ایک سوال بہرحال بنتا ہے! کیا کسی عام شہری کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ قانونی سوالات کا جواب الزامات سے دے سکے اور جب جی چاہے کسی کی بھی پگڑی اچھال سکے؟