ملک بھر میں ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے تحریک انصاف3 6کامیاب امیدواروں کے ساتھ پہلے اور مسلم لیگ 59امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر بڑی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ جمہوریت میں مقامی حکومتیں کیونکہ عوام کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس سے بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں آمرانہ ادوار میں تو بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں مگر جمہوری حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو اس نے بلدیاتی انتخابات کو دانستہ التوا کا شکار رکھا ہے۔ اس کا ثبوت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے گزشتہ ادوار میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے سپریم کا مداخلت کرنا ہے۔بدقسمتی سے تحریک انصاف بھی تبدیلی کے نعرے کے باوجود اقتدار کے تین سال گزر جانے کے بعد کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن کروا سکی، حالانکہ وزیر اعظم عمران خان قومی تعمیر و ترقی میں بلدیاتی اداروں کے بہت بڑے داعی رہے ہیں، مگر تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے بھی نئے مربوط بلدیاتی نظام کے لئے اصلاحات کا جواز بنا کر عملی طور پر بلدیاتی ادارے معطل کئے تھے۔ یہاں تک کہ کچھ حلقوں کی طرف سے حکومت پر شکست کے خوف سے بلدیاتی انخابات کو موخر کرنے کا الزام بھی لگایاگیا۔ بہتر ہو گا حکومت بلاتاخیر بلدیاتی اداروں کے شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے ساتھ مقامی حکومتوں کو مالی اختیارات بھی تفویض کرے تاکہ مقامی حکومتیں عوام کے مسائل عوام کی دہلیز پر حل کر سکیں۔