تجزیہ:سید انور محمود ہوائی حادثات بار بار ہوتے رہیں گے ،قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی، اہل خانہ کو دل سوز خبریں ملتی رہیں گی، اس کے باوجود پاکستان میں حکمرانی کا کلچر تبدیل نہیں ہوگا اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کیوں کہ موجودہ طرز حکمرانی اور لاپرواہی پاکستانیوں کی زندگیوں میں اس طرح کے سانحات لاتی رہے گی۔ ذرا جمعہ کی سہ پہر کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے پرواز کے تازہ المناک حادثے کی وجوہات کی تفتیش کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی ملاحظہ کریں، کوئی تعجب نہیں کہ پی آئی اے پائلٹ ایسوسی ایشن چیخ چیخ کر احتجاج کررہی ہے کہ صرف پلک جھپکنے میں 100جانیں ضائع ہوگئیں اورنقصان کا ابھی تک اندازہ نہیں کیا جاسکا ، اس طرح کی پہلے بھی ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی سربراہی پی اے ایف کے ایک عہدیدار نے کی جس میں 2جونیئرزافسر بھی شامل تھے جبکہ ہمارے پاس ایئر ٹریفک کنٹرول آپریشنز کا مشترکہ ڈائریکٹر بھی موجود ہے ۔ میری صرف پریشانی ہی یہ ہے کہ اتنے بڑے المیے کا سامنا کرتے ہوئے اس پرسکون کیوں؟۔یہاں تک کہ کمیٹی میں انکوائری کے تمام عناصر موجود ہیں لیکن یہ بین الاقوامی اصولوں اور طریقوں پر مبنی نہیں ہے اور ان پر ائیر فورس کے افسران کا غلبہ ہے جو سب اپنے پیشوں میں نمایاں ہوسکتے ہیں لیکن سوال اٹھتا ہے کہ ان کا تحقیقات کا تجربہ کتنا ہے ؟ یہ حقیقت کہ پی آئی اے کی سربراہی ایئر مارشل کے پاس ہے ، اس سے چیزیں اور بھی عجیب لگتی ہیں۔ انکوائری کمیٹی میں متعلقہ قومی ریگولیٹر کی کوئی نمائندگی کیوں نہیں؟ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کو آن بورڈ کیوں نہیں لیا گیا ؟ کیا ایئربس انڈسٹری سے مشورہ کیا گیا ہے ؟ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کیا حیثیت ہے ؟ اس کا سربراہ کون ہے ؟ اطلاعات کے مطابق یہ تقریبا تین سالوں سے باقاعدہ سر براہ کے بغیر چل رہی ہے ۔اگر پاکستان خود اپنی شہری ہوا بازی پر بھروسہ نہیں کرتا تو دوسرے کیوں؟ پاکستان میں ہوائی حادثات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر حادثات سے بچا جا سکتا تھا لیکن ہم تب سیکھے نہ اب سیکھیں گے ۔ہم امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں اور دیگر سویلین کارکنوں کے شکر گزار ہیں لیکن ہمارے حکمرانی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کوسبق سیکھنے کی ضرورت ہے ،ٹیکنالوجی اور افرادی قوت دونوں کے لحاظ سے ملک کی شہری ہوا بازی کو مضبوط بناناہوگا۔پی آئی اے کو اپنے بیڑے کو جدید بنانے کیلئے فوری طور پر اپنی مینجمنٹ کو بہتر بناتے ہوئے اپنے حصص بیچ کر یا ایئر لائن میں بڑے پیمانے پر رقم لگانی ہوگی تا کہ آپریشن کو بڑھایا جائے ۔پی آئی اے کیلئے مکمل پیشہ ورانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز تشکیل دیا جائے جس میں حکومت کی کوئی مداخلت نہ ہوجو مکمل خود مختارہو ، حکومت کو فوری طور پر کھلی فضائی پالیسی کا بھی جائزہ لینا چاہئے جس نے پی آئی اے کے مالی بحران میں بڑے پیمانے پرکردار ادا کیا ہے ۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ سمیت متعدد ممالک کی ایئر لا ئنز کسی بھی وقت، کسی بھی پاکستانی ہوائی اڈے سے پروازیں کر سکتی ہیں اور مسافروں کواتار اور لے جا سکتی ہیں ۔یہ ایک بہت بڑا ڈاکہ ہے ، ہماری حکومتوں نے اس کی اجازت دے کر قومی ایئرلائن کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔دن دیہاڑے ہونے والی اس ڈکیتی کو روکنا ہوگا۔ ان ایئر لائنز کو یہ بتایا جانا چاہئے کہ جب ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں تو ان کو چاہئے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچانے سے گریز کریں ۔ ہمیں فوری طور پر ان ایئر سروس معاہدوں کا جائزہ لینے اور ان پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور یہ وقت اب آچکا ہے ۔ حکومت کو چاہئے حالیہ پی آئی اے حادثے کے بدقسمت متاثرین کی یاد میں ہی اصلاحات کا آغاز کردے ۔