پاکستان نے بھارتی جیل میں تحریک حریت کشمیر کے رہنما اشرف صحرائی کے کورونا سے جاں بحق ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی طرز عمل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ محمد اشرف صحرائی گزشتہ دو برس سے بغیر کسی گناہ کے بھارتی فوج کا جبر برداشت کر رہے تھے، 80برس کے بزرگ رہنما قید میں کوئی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل علیل تھے مگر بھارتی حکومت نے اشرف صحرائی کو محض ایک دن جیل سے ہسپتال منتقل کیا تھا، جہاں وہ بھارتی فوج کی حراست میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ کشمیری رہنمائوں کو جیلوں میں پہلے ہی کورونا کا مرض لاحق ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت جیلوں کی بات تو دور، کئی بڑے شہروں یہاں تک کے دارالحکومت دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن تک مہیا نہیں کر پا رہی۔ان حالات میں قید کشمیری رہنمائوں کی جبری حراست بے گناہ کشمیریوں کے قتل کے مترادف ہو گی۔ مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی یہ احساس شدت سے موجود ہے کہ بھارتی حکمران کورونا کی ہلاکت خیز لہر کے دوران کشمیر کے عوام کو آکسیجن اور مناسب سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔ ان حالات میں بے گناہ کشمیری رہنمائوں کی حراست دانستہ اقدام قتل کے مترادف ہو گی۔ بہتر ہو گا عالمی برادری گرفتار کشمیری رہنمائوں کی رہائی کے لئے بھارت پر دبائو ڈالے تاکہ بے گناہ کشمیری رہنمائوں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔