پاکستانی حکومت نے تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنما محمد یاسین ملک کی شدید خراب صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کے کئی رہنما 5 اگست2019ء سے گھروں میں نظربند ہیں یا پھر باقاعدہ ان پر مقدمات درج کرکے انہیں عقوبت خانوں میں قید کر رکھا گیاہے۔ یاسین ملک کی تنظیم پر بھارتی حکومت نے مارچ 2019ء میں پابندی عائد کی۔ بعد ازاں انہیں ناکردہ جرائم میں گرفتار کرکے تہاڑ جیل کے ڈیتھ سیل میں رکھ کر بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ اس وقت یاسین ملک موت اور زندگی کے دوراہے پر کھڑے ہیں، انہوں نے اپنی وصیت بھجوا دی ہے لیکن قابض فوج انہیں ریلیف دیتی نظر نہیں آ رہی۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کو بڑھاپے میں بھی قید کر رکھا ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں کے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں۔ حکومت پاکستان پہلے ہی عالمی برادری کی توجہ کشمیر میں محصور کشمیریوں کی جانب دلا چکی ہے لیکن اقوام متحدہ سے لے کر یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک ہر کسی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جو باعث افسوس ہے۔ اس وقت پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک قیدیوں کو رہا کر رہے ہیں۔ لہٰذا بھارت نہ صرف مقبوضہ وادی سے کرفیو اٹھائے بلکہ وہ یاسین ملک سمیت قید حریت رہنمائوں کو فی الفور رہا کرے تاکہ وہ اس وبا سے بچائو کی تدابیر اختیار کر سکیں۔ عالمی برادری مودی سرکار پر دبائو ڈالے تاکہ کشمیریوں کو اپنا حق مل سکے۔