لاہور، اسلام آباد، ملتان ،کراچی،پشاور،کوئٹہ(نامہ نگار خصوصی، اپنے نیوز رپورٹر سے ،کرائم رپورٹر، نمائندگان ،92 نیوزرپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی حملہ کیس میں نامزد کردیا گیا جبکہ وکلا کی ہڑتال ہفتہ کو تیسرے روز بھی جاری رہی ۔وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی پی آئی سی پر حملے ، توڑ پھوڑ اور پولیس وین کو نذر آتش کرنے میں پیش پیش تھے ۔مقدمہ میں نامزد کئے جانے کے باوجود انہیں تاحال گرفتار نہ کیا جا سکا۔ حسان نیازی کی گرفتاری کیلئے پولیس نے دوسرا چھاپہ مارا،تاہم گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے کہا حسان نیازی کی گرفتاری کیلئے رائیونڈ میں کارروائی کی گئی لیکن وہ وہاں سے بھی فرار ہوگئے ۔ رائیونڈ میں کارروائی حسان نیازی کے موبائل فون کی لوکیشن اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی ۔ لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد بھٹہ نے پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار 11 وکلا کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالتی حکم کے باوجود ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے ۔ درخواست کی مزید سماعت 16 دسمبر کو ہوگی۔سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کی زیرصدارت پی آئی سی واقعے کی تفتیشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں سی سی پی او کو کیس میں ابتک ہونیوالی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ سی سی پی او لاہور نے گرفتاریوں اور کیس کی تیاری کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی قیادت میں 7رکنی خصوصی ٹیم تشکیل دیدی ۔ پی آئی سی حملے کے دوران علاج نہ ہونے کے باعث جاں بحق ہونے والے بابو عرف نواب دین کے لواحقین نے بھی وکلا کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے درخواست تھانہ شادمان میں جمع کرادی۔دریں اثناء پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں حملے کے بعد وکلا کی گرفتاریوں اور ان پر مقدمات کیخلاف ملک بھر میں تیسرے روز بھی وکلا کی ہڑتال برقرار رہی۔لاہور ہائیکورٹ اور سیشن عدالتوں میں تیسرے روز بھی کام بند رہا ۔سندھ ہائیکورٹ بار، کراچی بار اور ملیر بار کونسل کے وکلا نے بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو ئے اور وکلا کی جانب سے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور ان کیخلاف مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ ملک بھر میں وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہونے سے سائلین رل کر رہ گئے ہیں۔ پنجاب بار کونسل نے پولیس افسران اور اہلکاروں کے وردی میں کچہریوں اور عدالتوں میں داخلے پر پابندی لگادی۔پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین شاہنواز اسماعیل اور لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری فیاض رانجھا نے مطالبہ کیا گرفتار وکلا کوفوری رہا کیا جائے ۔اسلام آبادہائیکورٹ بار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل،ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت 60وکلا کے لائسنس ایک روز بعد ہی بحال کردئیے ۔ لاہور،راولپنڈی،پاکپتن (جنرل رپورٹر، اپنے نیوز رپورٹر سے ،رپورٹر92نیوز، نمائندگان ، 92 نیوز رپورٹ) لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کیخلاف ڈاکٹروں کا احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ لاہور، ملتان،راولپنڈی سمیت صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں۔ ڈاکٹروں نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کام جاری رکھا ۔راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے احتجاجی ریلی نکالی ۔ ڈاکٹرز نے کہا حکومت ناکام ہوچکی، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پرحملے میں ملوث وکلا پر ملٹری کورٹس میں مقدمہ چلایاجائے ۔ وکلا حقیقت پر پردہ ڈالنے کیلئے عدالتوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں ۔ڈاکٹرز نے ہیلتھ پروٹیکشن بل جلد نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ دھمکی آمیز ویڈیوز کے بعد گرینڈ ہیلتھ الائنس نے خبردار کیا ہے کہ جبتک ہسپتالوں میں سکیورٹی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا تب تک او پی ڈی نہیں کھولیں گے ۔پی آئی سی کی ایمرجنسی میں 200سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا ۔ 4مریضوں کی اینجو گرافی اور2مریضوں کی اینجو پلاسٹی کی گئی ۔ پی آئی سی انتظامیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے سمز کے قائم مقام پرنسپل پروفیسر امجد کی قیادت میں ریلی نکالی گئی ۔پروفیسر امجد نے ایم ایس پی آی سی ڈاکٹر امیر کو گلدستہ پیش کیا۔حملے میں جاں بحق افراد کیلئے پی آئی سی میں فاتحہ خوانی کی گئی۔ پی آئی سی میں او پی ڈی اور ان ڈور طبی سہولیات مسلسل چوتھے روز بھی معطل رہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن اور تحصیل ہسپتال عارفوالہ میں ڈاکٹروں نے بازوئو ں پرسیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔پی ایم اے عہدیداروں کا کہنا تھا چند شر پسند وکلا کی طرف سے مسلح غنڈہ گردی کی اس حرکت نے پاکستان کو بنانا ری پبلک بنا دیا ہے ۔