نقشبند کے لغوی معنی’ مصور‘ کے ہیں،اصطلاح تصوف میں اس لقب سے مراد ایسی شخصیت ہے جو علم الہٰی کی لاثانی تصویر کھینچ دے۔ حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی لقب سے ملقب تھے ۔ آپ کا اسم گرامی محمد جبکہ والد ماجد کا نام بھی محمد تھا۔ آپ بخارا سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں قصر ہندواں میں پیدا ہوئے جو بعد میں ’ قصر عارفاں‘ کے نام سے معروف ہوا، آپ 4 محرم الحرام 718ھ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نسلاََ تاجک تھے ۔ حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی ولادت سے قبل ہی آپ کے متعلق بشارت دے چکے تھے ۔’ نقشبند ‘کا لقب کافی عرصہ کے بعد آپ کے نام کا حصہ بنا۔ تاریخ مشائخ نقشبندیہ میں اس حوالہ سے ایک واقعہ تحریر ہے کہ جب آپ نے دوسری مرتبہ حج کے ارادہ سے مکہ مکرمہ کے سفر کا ارادہ فرمایا تو آپ مولانا زین الدین سے ملاقات کے لئے ہرات تشریف لے گئے ۔تین روز تک آپ نے وہاں قیام فرمایا ایک روز نماز فجر کے بعد مولانا زین الدین نے آپ سے فرمایا کہ اے خواجہ ہمارے لئے حقیقت کا نقشہ کھینچ دیں(برائے ماہم اے خواجہ نقشبند) آپ نے ازراہِ انکسار ارشاد فرمایا ہم آپ کے پاس اس لئے آتے ہیں کہ اللہ کے سوا ہر چیز کا نقش میرے دل سے مٹا دیں(امدیم تا نقش پریم) غالبًااسی روز سے ’ نقشبند‘ آپ کے اسم گرامی کا حصہ بنا اور پھر اسی نام سے ایک عظیم روحانی سلسلہ کا آغاز بھی فرمایا۔ آپ کا زمانہ ولایت امت مسلمہ میں تصوف کے عروج کا زمانہ تھا ۔اسی دور میں حضرت سید علی ہمدانی(م۔1385) کشمیر میں نور معرفت کی شمع جلا ئے ہوئے تھے ۔ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی (م۔1386)سندھ اور پنجاب کے قبائل اور جاٹوں کو توحید کا جام پلا رہے تھے اور حضرت شاہ نقشبند وسطی ایشیا میں توحید کا پرچم بلند کر رہے تھے جبکہ سیاسی طورپر بھی کئی نئی مملکتوں کا ظہور ہو رہا تھا۔ کئی حکومتیں ترتیب پار ہی تھیں امیر تیمور عین انہی سالوں میں ایشیا میں حکومتوں کو مسخر کر رہا تھا اور ترکی کے عثمانی یورپ کی طرف پیش قدمی میں مصروف تھے اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی توسیع کر رہے تھے ۔حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کو اپنی فرزندی میں لے لیا اور تربیت کا ذمہ خود اٹھایا۔ مزید تربیت کے لئے اپنے ایک مرید صادق حضرت سیدامیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا۔ حضرت سید امیرکلال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرشد کے حکم کی تعمیل میں دن رات ایک کیا یوں آپ کی طبیعت قدرتی طور پر یادِ الٰہی کی طرف مشغول ہو گئی۔ عین جوانی کے عالم میں خلوت پسندی آپ کومحبوب ہو گئی۔آپ نے جوانی کے عالم میں مزاراتِ صالحین پر حاضر ہوکر وہاں مراقبہ کو اپنا معمول بنا لیا۔ حضرت بہاؤالدین نقشبند جو کہ ایک سید خاندان کے فرد تھے جن کا سلسلہ نسب سیدناحسن عسکری علیہ السلام کے واسطہ سے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتا ہے ۔ان پر ایسے راز جلد ہی منکشف ہونے لگ گئے جس کو حاصل کرنے کے لیے سالکان طریقت سالہا سال گزار دیتے ہیں۔ آپ نے اُن بزرگوں کے مزارات پر حاضری کو معمول بنایا جو دنیا سے بے نیازی پر پختہ یقین رکھتے تھے ۔ایک مدت تک آپ حضرت خواجہ محمد واسع ، حضرت خواجہ محمود فغنوی اور حضرت خواجہ مزداخن رحمۃ اللہ علیہم کے مزار پر حاضر ہوتے ۔جناب ڈاکٹر اسحاق قریشی اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ان مزارات پر دیے جل رہے تھے لیکن ان کی لو مدھم تھی۔ حضرت خواجہ نقشبند ان کی لَوبڑھا نے کے لیے تشریف فرما ہو گئے اسی اثناء میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک پردہ لٹک رہا ہے اس کے عقب میں ایک تخت رکھا ہو اہے جس کے گرد بہت سے لوگ ہیں۔ان میں سے حضرت بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ نے پہچان لیا جبکہ دیگر بزرگوں کا تعارف حضرت خواجہ احمد صدیق ، حضرت خواجہ علی رامیتی علیہما الرحمۃ کے نام سے ہوا۔ ایک بزرگ جو تخت پر تشریف فرماتھے ان کا اسم گرامی حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی تھا۔ آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ ان مدھم بتیو ں کو تم نے بلند کرنا ہے ،اب تمہارے ذمہ ہے اور تم میں استعداد بھی ہے ۔آپ نے حضرت خواجہ نقشبند کو نصیحت فرمائی کہ ہر حال میں شریعت پر ثابت قدم رہنا، سنت پر عمل کرنا اور بدعت سے بچنا،یہ لازم رکھو کہ ہر دم سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی تلاش میں رہنا ہے ۔پھر فرمایا:میں نے ان ہدایات کے ساتھ آپ کو حضرت سید امیرکلال کی پناہ میں دے دیا اس کشف کے بعد آپ کی بیعت تو حضرت کلال سے تھی لیکن معاملات تصوف میں آپ ہمیشہ حضرت عبد الخالق غجدوانی کے اقوال اوران کے طریقہ پر عامل رہے ۔ اس نیم باز مکاشفہ سے آپ کی زندگی کا ایک رخ متعین ہو گیا۔آپ نے حضر ت سید امیرکلال رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں تصوف کی باقاعدہ منازل طے فرمائیں،عبادات و ریاضت میں خوب محنت کی، حضرت خواجہ غجدوانی کی ہدایت کے مطابق ہمیشہ عزیمت پر عمل کیا۔رخصت سے دور رہے ،احادیث مقدسہ اور آثارِ مبارکہ کی تلاش میں رہے ۔ آپ علماء کی صحبت میں علوم دینیہ بھی حاصل کرتے رہے جبکہ سید کلال کی رہنمائی میں ذکر و مراقبہ میں بھی برابر مصروف عمل رہے ۔آخر ایک دن حضرت کلال نے فرمایا’’اے میرے فرزند بہاؤالدین! حضرت بابا سماسی نے جو تمہاری تربیت کی وصیت فرمائی تھی چنانچہ اس وصیت کے مطابق میں نے تمہاری خوب تربیت کی ہے ۔ اب تمہیں اجازت ہے کہ تم شاہراہ طریقت پر سفر کا آغاز کرو‘‘(تاریخ مشائخ نقشبندیہ)۔آپ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ روحانی منازل اور مقامات طے کرتے وقت شیخ منصور حلاج کی صفت دو دفعہ میرے وجود میں آئی لیکن خدا کی عنایت اس مقام سے گزر گیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے شیخ جنید، شیخ بایزید بسطامی، شیخ شبلی اور شیخ منصور حلاج کے مقامات کی سیر کرنے کا موقع ملا یہاں تک کہ مجھے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری کا موقع نصیب ہوا اور وہاں میں نے ان تمام آداب کا خیال رکھا جو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایان شان تھے ۔آپ کے مرید پہلے خلیفہ اور جانشین حضرت علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت خواجہ کی عنایت کا یہ عالم تھا کہ پہلے قدم پر ہی طالب مراقبہ کی سعادت حاصل کر لیتا تھا۔ زندگی کے آخری حصہ میں آپ بخارا میں ہی قیام پذیر رہے ۔ آپ کے روز مرہ کے معمول میں خدمت ِ خلق کا پہلو نمایاں تھا۔مختلف راستوں کی دیکھ بھال اور مرمت آ پ کا خصوصی مشغلہ تھا کہ گزرتے ہوئے لوگوں کوتکلیف نہ ہو۔آپ کا پیشہ زراعت تھا ،ہر سال مختلف فصلیں کاشت کرتے خصوصا جو اور ماش کی کاشت کرتے اور اسی سے گھر اور لنگر کا نظام چلتا تھا۔ آپ کے فقر کا یہ عالم تھا کہ شہر بھر میں کوئی ذاتی مکان نہ تھا کسی کے مکان میں رہائش رکھتے ۔ سردیوں میں فرش پر گھاس بچھا دی جاتی اور گرمیوں میں بوریا کا بستر ہوتا۔ گھر میں کوئی خادم نہ تھا ۔ گھر کے سارے کام اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خود کرتے ۔ اکثر کھانا خود بناتے اور مہمان نوازی میں حد درجہ مبالغہ فرماتے ۔ مہمان کی خدمت کے لئے بہت زیادہ اہتمام فرماتے ، خصوصی چراغ مہمان کے سامنے رکھتے اور خود کھڑے ہو کر ان کو کھانا کھلاتے ۔ آپ کے لنگر پکانے والوں کو ہدایت تھی کہ غصہ، کراہت یا غفلت کے عالم میں کھانانہ بنانا کیونکہ اس طرح کے کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔ کوئی ہدیہ پیش کرتا تو اس کو بخوشی قبول فرماتے لیکن ساتھ ہی اس کے بدلے اس پر احسان (یعنی نیک سلوک )کرتے ۔ آپ فرماتے کہ جب میرا آخری وقت آئے گا تو سب کو مرنا سکھاؤں گا چنانچہ جب وفات کا وقت قریب آیا تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور دیر تک دعا مانگتے رہے ۔جب دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے توجان جان ِآفریں کے سپرد کر دی۔آپ کی عمر مبارک 73سال تھی۔ 3ربیع الاول 791ھ ، 1389ء بروز پیر انتقال فرمایا۔ مزار پرانوار بخارا(ازبکستان) میں ہے ۔