معروف صوفی بزرگ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ کے عرس کا آخری دن ہوتا ہے اور اسی دن یعنی 7صفر کو حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ کا عرس مبارک شروع ہو جاتا ہے۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کے زائرین کی زیادہ تعداد سندھ سے اور حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ کے زائرین سرائیکی وسیب کے علاوہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں ۔ خواجہ محمد سلیمان تونسویؒ 1770ء میں گڑ گوجی بلوچستان میں پیدا ہوئے جو تونسہ سے تیس میل دور مغرب میں واقع ہے ۔آپ کے والد کا نام زکریا بن عبدالوہاب بن عمرخان تھا ۔ آپ کا تعلق جعفر قبیلے سے تھا جو اس علاقے میں روہیلہ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ چھوٹی عمر میں ہی والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔دینی علوم کی تعلیم کیلئے مٹھن کوٹ میں مولانا قاضی محمد عاقل کی خدمت میں حاضری دی ۔ علوم دینی کی تکمیل کے بعد پندرہ سال کی عمر میں چشتیاں میں خوجاہ نور محمد مہاروی کے ہاتھوں بیعت کی اور چھ سال تک مرشد کی خدمت کرتے رہے ۔ پھر مرشد کے حکم پر تونسہ شریف واپس آ گئے ، وہاں دین کی تبلیغ اور انسانیت کی خدمت میں باقی عمر گزار دی ۔ خواجہ محمد سلیمان تونسویؒ کا کارنامہ یہ ہے کہ آپؒ نے دینی تعلیم عام کرنے کیلئے تونسہ میں ایک عظیم الشان مدرسے کی بنیاد رکھی ، درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور خوبصورت خانقاہ شریف تعمیر کرائی ۔اس علاقے میں غربت بہت زیادہ تھی آپ نے تونسہ شریف میں لنگر کا انتظام کیا ، دور دراز سے لوگ تونسہ آنے لگے اور بہت ہی تھوڑے عرصے میں تونسہ شریف علم و حکمت کا مرکز بن گیا ۔علماء ، مشائخ کی آمد سے تونسہ شریف کی شہرت دور دراز تک پہنچ گئی ، اسی جگہ بہت بڑی لائبریری کا انتظام ہوا ، دور دراز سے تشنگان علم اس علاقے میں آنے لگے۔ لورالائی کے جس مقام سے آپ نے ہجرت فرمائی ، وہاں سرائیکی کے ساتھ ساتھ پشتو اور بلوچی بولی جاتی تھی جبکہ تونسہ شریف میں سو فیصد سرائیکی تھی ، اسی بناء پر آپ نے ذریعہ تعلیم اور تصوف کے اظہار کا وسیلہ سرائیکی کو بنایا ،کہا جاتا ہے کہ اس وقت فارسی کا چلن تھا اور مدارس میں فارسی پڑھائی جاتی تھی ۔ حکومت انگریز کی تھی ، اس لئے سرکاری دفاتر میں انگریزی عام تھی مگر حضرت خواجہ سلیمان تونسوی نے مقامی سرائیکی زبان کو اہمیت دی۔ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی ؒ نے جب تونسہ میں قیام فرمایا تو انہوں نے ہنر مندوں کو پہچان اور احترام دیا ۔ تونسہ شریف میں ہنر مندوں مستری ‘ سونار‘ کمہار ‘ دھوبی ‘ لوہار ‘ حجام ‘ موچی ‘ پولی ‘ چڑوہے ‘ درکھان خصوصی طور پر بلوائے گئے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ۔خواجہ سلیمان تونسوی نے ’’الکاسبُ حبیب اللہ ‘‘ کے فرمان کو صحیح معنوں میں سچ کر دکھایا اور اپنی تعلیمات کے ذریعے فرمایا کہ سردار یاخان وہ ہے جو ہنر مند ہے اور محنت کش ہے ۔ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی نے سرداری ‘ جاگیرداری اور تمنداری کے فلسفے کی نفی کرتے ہوئے علاقے کے محنت کشوں غریب ہاریوں اور مزدوروں کو اپنے قرب میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ ان طبقات کو احترام دیا جنہیں معاشرے کے کم عقل لوگ کمی قرار دیتے تھے ۔ آج ایک بار پھر سے ان ہنر مندوں کو احترام دینے کی ضرورت ہے اور انسانی معاشرے میں وہ تجاوزات جن کو تمنداری ‘ سرداری اور جاگیرداری کا نام دیا جاتا ہے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ سوانح نگاروں نے انسان دوستی کے حوالے سے آپ کے بہت سے کارنامے گنوائے ہیں ۔ ان کارناموں کو کرامات کا بھی نام دیا جاتا ہے ۔ مگر کرامات کسی بھی طرح کی چھومنتری کا نام نہیں بلکہ انسانیت اور انسان دوستی ہی سب کچھ ہے ۔ تاریخ مشائخ چشت میں منقول ہے ’’ پوری زندگی شریعت پر کاربندر رہنا، نماز پنجگانہ ادا کرنا سب سے بڑی کرامت ہے ۔ ‘‘ خواجہ سلیمانؒ 63 سال مسلسل مسند تدریس پر فائز رہے۔ آپ نے اپنی رخصتی بارے پہلے فرمایا ، کہا جاتا ہے کہ جب صفر کا چاند طلوع ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ یہ ہمارے سفر کا مہینہ ہے ‘‘ ۔ کچھ دن بعد 7 صفر المظفر کو وفات پا گئے ۔آپ نے 13 دسمبر 1850ء میں رحلت فرمائی اور تونسہ شریف میں مدفن ہوئے۔ آپ 22 سال کی عمر میں مسند سجادگی پر تشریف فرما ہوئے اور 84 سال کی عمر تک اس مسند پر فائز رہے۔ آپ کے دو صاحبزادے آپکی زندگی میں وصال فرما گئے ۔ آپ کے پوتے خواجہ اللہ بخش تونسوی سجادہ نشین مقرر ہوئے۔ آپ کے خلفاء کی تعداد سینکڑوں اور مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ لیکن آپ کے مشہور خلفاء میں مولوی محمد احمد مکھڈوی اور شمع العارفین خواجہ شمس الدین سیالوی نمایاں ہیں ‘ اسی طرح وسیب کے ہر علاقے میںآپ کی تعلیمات کے مظاہر ملتے ہیں۔ آپ کے قیام کی برکت سے تونسہ ، تونسہ شریف ہو گیا ۔ تونسہ کا لفظ تس یعنی پیاس سے ماخوذ ہے ۔ تونسہ شریف اور اس کے آس پاس بہت سی معدنیات جس میں تیل ‘ گیس اور یورینیم کے ذخائر برآمد ہوئے ہیں ۔ خوش عقیدہ لوگ اسے بھی حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ کی برکت قرار دیتے ہیں ۔ لیکن اتنے وسائل کے باوجود تونسہ آج بھی محرومی کا شکار ہے ۔یہ شہر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر موجود ہے ۔ مگر اس کے باوجود پیاسا کیوں ؟ محکمہ آبپاشی نے کالا باغ ہیڈ ورکس سے تونسہ بیراج کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا مگر یہاں بھی جاگیردار سیاستدانوں نے ہاتھ دکھایا اور تونسہ بیراج کو کوٹ ادو تحصیل لے گئے ۔ تونسہ بیراج کا افتتاح 3 مارچ 1959 ء کو ہوا ، یہ بیراج مظفر گڑھ اور ڈی جی خان کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے ۔ تونسہ کے لوگوں کو آج بھی اس بات پر اعتراض ہے کہ نام تونسہ بیراج ہے مگر تونسہ آج بھی پیاسا ہے۔ آج جبکہ تونسہ بر سر اقتدار ہے تو تونسہ کی محرومی کو بھی ختم ہونا چاہئے اور تونسہ کی سرائیکی زبان و ادب کی ترقی کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں۔