(ن) لیگ کو ایک بار پھر بہت بڑا اقتدار حاصل ہے، مرکز کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ بھی اس کے پاس ہے، اس کا کریڈٹ عمران خاں کو جاتا ہے ۔ (ن) لیگ کو عمران خاں کا شکر گزار بھی ہونا چاہئے کہ بانی پی ٹی آئی کی ضد اور غیر سیاسی فیصلوں کی وجہ سے (ن) لیگ کو سب کچھ حاصل ہوا۔ عمران خاں بر سر اقتدار آئے تو وہ بھول گئے کہ ان کو لانے والے کون تھے، دوران اقتدار ایجنڈے کے تحت عمران خاں نے سخت رویہ اختیار کیا اور کہاکہ مر جائوں گا مگر نواز شریف کو این آر او نہیں دوں گا، پھر سب نے دیکھا کہ نواز شریف کو این آر او دیدیا گیا اور وہ جیل سے سیدھا لندن جا بیٹھے، کہنے کو آئین ، قانون اور اصولوں کی باتیں ہوتی رہیں مگر جس اصول کے تحت نواز شریف کو جیل سے آزاد کیا گیا وہ اصول کسی غریب اور کسی بے گناہ قیدی کے کام نہ آسکا۔ سیاسی بحران بڑھتا گیا، تحریک انصاف کے رہنمائوں کے علاوہ عمران خاں کے تمام ہمدردوں نے قومی اسمبلی سے استعفے اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے روکا مگر بانی پی ٹی آئی نے کسی ایک نہ مانی، اس سے پارٹی کو بہت نقصان ہوا ، ہر طرف سے کہا گیا کہ سیاسی تنائو میں کمی پیدا کریں مگر مولا جٹ والی بڑھکوں کا شور کم نہ ہوا، ’’میں کلہا ای کافی آں‘‘ کے نعرے بلند کئے گئے، جھگڑا مزید بڑھ گیا، ڈائیلاگ کے دروازے بند ہوتے چلے گئے، 9 مئی کا واقعہ بقول بانی پی ٹی آئی ڈیزائن شدہ تھا تب بھی اس کا شکار پی ٹی آئی کے لوگ ہوئے ۔ ان حالات میں سابق صدر عارف علوی کا بیان سامنے آیا ہے کہ مذاکرات سیاستدانوں سے نہیں صرف طاقتور قوتوں سے ہوں گے ۔190ملین پائونڈ ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خاں نے کہا ہے کہ صرف ان سے بات کروں گا جو طاقت ور ہیں۔ سابق صدر اور سابق وزیر اعظم کے یہ بیانات غیر جمہوری اور غیر اصولی ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی اشارہ دیتے ہیں کہ سیاسی بصیرت کی کمی ہے، حالانکہ ان کا بیان اس کے الٹ ہونا چاہئے تھا ۔ سب کو علم ہے کہ الیکشن میں صرف دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلہ ہوا اور فارم 47جس کی حقیقت کا ذکر خود نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے (ن) لیگ کے رہنما سے تلخ کلامی پر کیا ، فارم 47 کے ذریعے جن لوگوں نے اقتدار حاصل کیا ان سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے کہ اگر ملک میں جمہوریت لانی ہے تو پھر غیر جانبدارانہ الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔ طاقتور قوتوں سے مذاکرات کا عندیہ دے کر اس بات کو تقویت دی گئی ہے کہ عمران خاں اپنی مقبولیت کو قبولیت کا شرف دلوانا چاہتے ہیںاور ایک بار پھر اقتدار کے لیے اُسی راستے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جس سے پہلے آئے، سینئر سیاستدان اعتزاز احسن کے علاوہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ایک جج نے بھی عمران خاں کو سیاسی مذاکرات کا مشورہ دیا، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس مشورے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت بھی ہے کہ عمران خاں کی سیاست کو ڈبونے میں خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کا اہم کردار ہے، وسیم اکرم پلس کا تو پتہ نہیں کہاں ہیں ، البتہ خیبرپختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مقتدر قوتوں سے مذاکرات چاہتی ہے تو میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں، اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ عمران خاں کے ساتھ نہیں بلکہ مقتدر قوتوں کے ساتھ ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کے پاس بڑا اقتدار رہا اور اب بھی ہے ، تیسری مرتبہ ان کو صوبہ ملا ہے مگر عوام کو کچھ نہیں ، خیبرپختونخواہ کے اضلاع ڈی آئی خان اور ٹانک میں لوگ آج بھی محرومی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔عمران خاں اور عثمان بزدار کا تعلق وسیب سے ہے نہ صرف یہ کہ سو دنوں میں صوبہ بنانے کا وعدہ پورا نہ ہوا بلکہ عمران خاں نے وسیب اور وسیب کی تہذیب و ثقافت کو نظر انداز کر کے پشتون ازم کو فروغ دیا اور عثمان بزدار نے وسیب میں بلوچ سرائیکی تفریق پیدا کرنے کی حرکت کی۔ لیہ ملاقات کے دوران میں نے بانی پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ وسیب کے لوگ آپ سے مایوس ہیں ، وسیب کو شناخت بھی چاہئے اور صوبہ بھی ، اس کے جواب میں انہوں نے باتیں تو بہت کیں مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا، صوبے کے قیام اور ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا ہونا چاہئے، عدلیہ سمیت تمام ادارے اپنا اپنا کام کریں اور سیاستدان بھی سیاسی مسئلے خود مل بیٹھ کر حل کریں ، ملک میں جو کچھ ہوا ہے اب اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے، آگے کا سوچنا چاہئے کہ ملک میں پائے جانے والے سیاسی بحران سے غریبوں کا جینا محال ہو چکا ہے۔ حکومت کی طرف سے اڈیالہ جیل کے قیدی کو حاصل سہولتوں کے بارے میں جو تصاویر دکھائی گئی ہیں، اس کے مطابق ایک کمرے میں دو الماریاں راشن سے بھری ہوئی ہیں، ایک الماری کولڈڈرنک کی ، روم کولر بھی ہے ، میز ، کرسی کے ساتھ بہترین بستر اور مہنگا منرل واٹر بھی موجود ہے، ایک اور کمرے میں ورزش کے لیے جم کی سہولتیں اور اعلیٰ معیار کا ساز و سامان موجود ہے، کھانے میں بکرے اور دیسی مرغی سب کچھ ہے ، ملاقاتیوں کو بھی آنے جانے ، اٹھنے بیٹھنے کی وی آئی پی سہولتیں حاصل ہیں، اڈیالہ جیل میں اور بھی ہزاروں قیدی ہیں ، کیا ان کو یہ سہولتیں حاصل ہیں؟ اگر نہیں تو کیا عمران خاں نے کبھی یہ مطالبہ کیا کہ غریب ، بیمار ، لاچار ، لاوارث اور بے گناہ قیدیوں کو بھی میرے جیسی سہولتیں مہیا کی جائیں؟ عمران خاں کی سہولتیں دیکھ کر پنڈی جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کی قید یاد آ ئی جس کی تاریخ پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اب پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو حقیقی انصاف اور مساوات کی ضرورت ہے ، صرف باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ، کیا کوئی ایساکرنے کے لیے تیار ہے ؟