غزہ،نیویارک،میڈرڈ،بیروت، اوسلو، لندن، تل ابیب(این این آئی،آن لائن،نیٹ نیوز)غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 58 فلسطینی شہید اور 189 زخمی ہوئے ہیں۔فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نیخان یونس میں پناہ گزینوں کے سکول کو نشانہ بنایا، النصیرات پناہ گزین کیمپ، الشجاعیہ اور الطفاح میں گھروں پر حملے کیے گئے ۔ دوسری جانب غزہ اور گولان کی پہاڑیوں پر بالترتیب حماس اور حزب اللہ کے حملوں میں اسرائیلی فوج کے کم از کم 4 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق شجاعیہ کے علاقے میں غزہ سے حماس کے داغے گئے طیارہ شکن میزائل حملے میں 2 فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے جن میں ایک پلاٹون کمانڈر اور دوسرا سارجنٹ تھا۔ دوسرے واقعے میں حزب اللہ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو ڈرونز اور راکٹوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کا کمانڈر ہلاک ہوگیا، جبکہ 5 سے زائد زخمی ہیں۔حزب اللہ کے ان حملوں سے اسرائیلی فوجی اڈے پر آگ بھڑک اُٹھی اور ایک بڑا حصہ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اسرائیلی فوج کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح غزہ میں حماس کی فائرنگ سے اسرائیلی فوج کا 20 سالہ اہلکار ہلاک ، 8 زخمی ہوگئے ۔ایک اسرائیلی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی محصور پٹی کے 26 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ۔یہ تحقیقات اسرائیلی اخبار میں شائع ہوئی ہیں۔ میڈرڈ میں ہونیوالی خارجہ امور سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب غزہ میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کی حمایت کرتا ہے ، تاہم غزہ کی پٹی میں فی الحال جنگ بندی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں لبنان میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ ہے کیو نکہ وہاں کوئی سیاسی منظر نامہ دکھائی نہیں دیتا۔مزید برآں اقوام متحدہ کی کوارڈینیٹر سگریڈ کاگ نے سعودی وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران غزہ جنگ روکنے کیلئے سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تل ابیب میں وزارت دفاع میں فضائیہ کے آپریشنز ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے حزب اﷲ کے متعلق بیانات میں کہا کہ جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، اس کا خون رائیگاں جائیگا۔ عرب ٹی وی کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی دفتر کے رکن محمد نزال نے اپنے ایک انٹرویو میں باور کرایا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں تنظیم سنجیدہ ہے تاہم اس حوالے سے تفصیلات نہیں دی جائیں گی تا کہ مذاکرات ناکام نہ ہو جائیں۔ برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زوملوٹ نے کہا ہے کہ فلسطینی مقصد کو برطانیہ کی پارٹی سیاست پر فوقیت حاصل ہے ،فلسطینی سفیر برطانیہ کو فلسطینی ریاست کو پہلے ہی تسلیم کر لینا چاہیے تھا،کئی مواقع ضائع کردیئے ۔