لاہور(محمد نواز سنگرا)حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے ملکی زرعی اجناس کی برآمد بری طرح متاثر ہو ئی ہے ۔ ملک کی4بڑی اجناس گندم، چاول، چینی اور کاٹن کی ایکسپورٹ اضافہ کے بجائے کم ہو گئی ہے ۔پاکستانی سبزیوں اور پھلوں کی ایکسپورٹ بڑھ گئی جبکہ دالوں،ٹماٹر،پام آئل اور انگور کی امپورٹ میں اضافہ ہو ا ہے ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی زبوں حالی کی وجہ سے کاٹن کی جہاں ایکسپورٹ کم ہوئی ہے وہاں امپور ٹ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔تفصیل کے مطابق پاکستان زرعی اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور جی ڈی پی میں زراعت کا ایک بڑا شیئر ہوتا ہے جبکہ ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ اسی پیشے سے وابستہ ہے جو اپنا پیٹ پالنے کیساتھ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ،مگر حکومتوں کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ مسائل سے دو چار ہے اور پیدوار میں کمی اور لاگت میں اضافہ کی وجہ سے ایک طرف تو ملک کا کسان پریشان ہے جبکہ دوسری طرف ایکسپورٹ بھی کم ہو گئی ہیں۔ملک کی چار بڑی اجناس گندم ،چاول،کاٹن اور چینی کی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ محکمہ زراعت کے اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2018-19میں کاٹن کی ایکسپورٹ 35ہزار ٹن کے مقابلہ میں 12ہزار ٹن پر آگئی ہے ۔گندم کی ایکسپورٹ11لاکھ89ہزار ٹن کے مقابلہ میں 6لاکھ89ہزار ٹن پر آگئی ہے ۔چاول کی ایکسپورٹ معمولی کمی کیساتھ41لاکھ6ہزار کے مقابلہ میں 41لاکھ4ہزار ٹن پرآگئی ہے ۔چینی کی ایکسپورٹ 2018-19میں 14لاکھ69ہزارٹن کے مقابلہ میں 6لاکھ91ہزار ٹن پر رہی۔ایکسپورٹ میں کمی کی وجہ سے زرمبادلہ بھی کم ہوا ہے ۔ملک میں پیداوار کی کمی کے باعث دال ماش،مونگ اور مسور کی امپورٹ بڑھ گئی ہے اور ایک بڑے زرعی ملک کے لوگ امپورٹڈ دالیں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ فی کس آمد ن میں کمی اور ڈرائی فروٹس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے ڈرائی فروٹس کی امپورٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔دوسری جانب پاکستانی پھلوں کیلے ،کینواورسیب کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سبزیوں بالخصوص آلو،پیاز کی ایکسپورٹ میں اضافہ جبکہ سرخ مرچ کی ایکسپورٹ میں کمی ہوئی ہے ۔پاکستانی آم کی ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان میں گندم،چاول،چینی،کاٹن،سرخ مرچ،ٹماٹر،آلو،پیاز،لیموں،کینو،سیب،کیلا،تربوز،کھجور کی ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان انہی اشیا کی امپورٹ کیساتھ دالوں کی امپورٹ بھی کرتا ہے ۔