اسلام آباد(92 نیوزرپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفیٰ کامطالبہ مستردکردیا، پرویزخٹک کی زیرصدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کااجلاس ہوا، اجلاس میں رہبرکمیٹی کے مطالبات پر غور کیاگیا،ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ارکان نے کہاکہ حکومت اپوزیشن کے پرامن احتجاج کاحق تسلیم کرتی ہے ، موجودہ ملکی صورتحال میں اسلام آبادجانامناسب نہیں، حکومت بات چیت سے معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کواپوزیشن کے مطالبہ سے آگاہ کردیا، دوسری طرف حکومتی کمیٹی نے تمام اپوزیشن رہنماؤں سے فرداً فرداً ملاقات کا فیصلہ کرلیا۔ حکومتی کمیٹی کے اراکین مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف سے رابطہ کرینگے اور ان سے ملاقات کیلئے وقت مانگا جائیگا ۔سپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو مولانا فضل الرحمٰن اورقائم مقام صدرصادق سنجرانی کو بلاول بھٹو زرداری سے رابطوں کا ٹاسک دیدیا گیا۔تمام اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے اوقات آج طے کئے جائینگے ۔دوسری جانب اپوزیشن کی رہبرکمیٹی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے الگ الگ مذاکرات سے انکارکردیا۔ کنونیررہبرکمیٹی اکرم درانی نے کہاہے کہ پہلے ہی طے کردیاتھا کہ رہبرکمیٹی ہی مذاکراتی کمیٹی ہے ۔مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت رہبر کمیٹی سے ہی رابطہ کرے ۔جب تک آزادی مارچ کی اجازت نہیں دی جائیی مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔ حکومت صرف مجھے آگاہ کریگی کہ آزادی مارچ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائیگی۔جب تک مذاکراتی کمیٹی مجھے بطورکنوینرآگاہ نہیں کریگی مذاکرات نہیں ہوسکتے ،حکومتی رابطے پرمیں رہبرکمیٹی کواکٹھاکرونگا۔علاوہ ازیں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک سے رابطہ کرکے مطالبات سے آگاہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پرویزخٹک نے اکرم درانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومتی کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے ، مشاورت کرکے آپ سے رابطہ کرینگے ۔ بعدازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کو بتا دیا کہ ہمارا موقف اور مطالبات پہلے والے ہیں۔ حکومتی کمیٹی مشاورت کرکے بتائے گی کہ کیا حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟ ۔