اسلام آباد، منگلا،پوٹھا(وقائع نگار،اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فوادچودھری نے کہا ہے کہ 2018ء سیاسی تکمیل کا سال تھا جس میں عمران خان وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے ، اب 2019معاشی تکمیل کا سال ہو گا جب ملک معاشی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا، بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن بینکنگ چینل کے ذریعے اپنے پیسے پاکستان بھجوائیں، حوالہ یا ہنڈی سے بھجوائے گئے پیسوں کا فائدہ ملک کو نہیں ہو گا، وزیراعظم عمران خان نے پارٹی اور حکومت کے اندر واضح کیا کہ بدعنوانی پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، احتساب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، اسی لئے اپوزیشن کی چیخیں نکل رہی ہیں، جہلم والوں نے ملک کی طرح مافیا کو شکست دی۔ ہفتہ کو یہاں اپنے آبائی حلقہ میں میرپور منگلا روڈ پر چودھری ظہیر آف پوٹھا اور چوہدری خالد آف بڑل کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے اپنا سیاسی سفر عمران خان کو وزیراعظم بنا کر مکمل کیا، اس سے قبل ملک میں نواز شریف اور زرداری مافیا بیٹھا تھا، جنہوں نے کاغذی کمپنیاں بنا کر لوٹ مار کی، ان کی سات نسلوں میں کسی نے کام نہیں کیا، یہ کاغذی کمپنیاں کمیشن کے لئے تھیں، پاکستانی تارکین وطن برطانیہ میں حسن نواز اور حسین نواز کی جائیدادوں سے آگاہ ہیں، یہ لوگ یہاں آ کر معصوم سا منہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ملکہ الزبتھ کے رشتہ دار ہیں، کیا یہ صرف پیسے بنانے آتے ہیں، گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی اپیل کے باوجود کارکن نواز شریف کے لئے جیل نہیں پہنچے ، مافیا چاہتا ہے کہ ان کی لوٹی دولت کو تحفظ دینے کے لئے عوام باہر نکلیں، عمران خان کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے ، حکومت احتساب پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرے گی، قومی دولت لوٹنے والوں کا احتساب ہو گا، ملک میں ٹھگز آف پاکستان کی سیریز چل رہی ہے ،ان کلاکاروں کو ہم نے دبایا ہے تو ہاتھ ہولا رکھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور لے دے کی پالیسی اختیار کرنے کے مشورے سامنے آ رہے ہیں، اگر ہم نے سمجھوتہ ہی کرنا تھا تو پھر عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا کیا فائدہ ہے ، وزیراعظم ان کے دباؤ میں نہیں آئے ، اسی لئے ان کی چیخیں آسمان پر پہنچ رہی ہیں، یہ نرم و گداز بستروں پر سونے کے عادی ہیں، تحریک انصاف نے بدعنوانی سے پاک حکومت دینے کی بات کی تھی، حکومت کے موجودہ دورانیہ میں کسی ایک وزیر کی کرپشن کا کوئی ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا، اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کی گئی، اس مقصد کے لئے وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کے دورے کئے ، وہاں فلسطین اور کشمیر کی بات کی، ہم تجارت کو آسان بنانا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ صرف دسمبر میں ہماری برآمدات میں 4.68 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 8.88 فیصد کمی واقع ہوئی، تجارتی خسارہ میں 54 کروڑ ڈالر کی بہتری آئی، اس کے نتیجہ میں ملک میں انڈسٹری لگے گی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، ہم نے عوام سے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے ، پانچ سال میں اس سے بھی زیادہ نوکریاں دیں گے ، پچاس لاکھ گھر منصوبہ آتے ہی شروع کر دیا ہے ، سرکاری اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کرائی ہے ، اس وقت پیسے والے لوگ زیادہ شور مچا رہے ہیں، غریب لوگوں کو گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سے کسی قسم کے بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ہم غریب کے حقوق کا تحفظ کریں گے ، ملک سے امیر اور غریب کے فرق کو کم کریں گے ۔