لاہور(گوہر علی)پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت پردباؤ بڑھاکر اپنے مطالبات منوانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا شروع کردیا، بلاول بھٹو زرداری کا مریم نوازسے رابطے کامقصد بھی حکومت کودباؤ میں لانا ہے ،ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی جارحانہ کاسیاست کا اولین مقصدآصف زرداری کوریلیف دلانا ہے ، پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کا باقاعدہ اجلاس چاہتی ہے تاکہ آصف زرداری پروڈکشن آڈر کے ذریعہ ان میں شرکت کرسکیں، پیپلزپارٹی سندھ حکومت کے خلاف وفاق کی طرف سے کوئی بھی جارحانہ اقدام نہ ہونے کی ضمانت بھی چاہتی ہے جبکہ اس کے کئی دیگر مطالبات بھی ہیں جو حکومت کے علم میں ہیں۔ پیپلزپارٹی اپنے مطالبات منوانے کے لئے حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور اس حوالے سے آئندایک دوروز میں صورت حال واضح ہوجائے گی، پیپلزپارٹی کے چند مطالبات بھی حکومت نے تسلیم کرلئے تو سیاسی منظر تبدیل ہوجائے گا۔ اگر حکومت نے پیپلزپارٹی کے مطالبات کے جواب میں لچک داررویہ اختیار تویہ بھی نرم رویہ اختیار کرے گی ، پیپلزپارٹی اپنے مطالبات منوانے کے لئے چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملہ پر مسلم لیگ (ن) سے رابطے بڑھا رہی ہے جس سے حکومت غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے ۔پیپلزپارٹی نے 25جولائی کو یوم سیاہ منانے کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں تاکہ پارلیمنٹ کے باہر بھی حکومت کوسخت پیغام دینے کا تاثر پیدا ہوسکے ۔