اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں جس سے میڈیا صنعت اور اس سے وابستہ افراد کو ریلیف ملے گا ، پالیسی کے تحت ریجنل کوٹہ پر عمل کرینگے ۔ یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات میں کیا۔ سی پی این ای کے وفد کی قیادت سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے کی جبکہ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر شاہیرہ شاہد نے بھی خصوصی شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سی پی این ای کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق پر کامل یقین رکھتی ہے ۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل بھی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ اخبارات و جرائد کے تمام مسائل سی پی این ای سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کیساتھ حل کرینگے ۔ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائیگا اور اے بی سی کے سلسلہ میں جاری شدہ حالیہ سرکلر صرف ریجنل نہیں بلکہ تمام اخبارات کیلئے ہے ، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے ذریعے جاری شدہ اشتہارات کی ادائیگیوں کے ضمن میں 85 فیصد براہ راست اخبارات کو جبکہ 15 فیصد ایجنسی کو ملنے چاہئیں، ہم اسکا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایسا نظام وضع کرنا چاہتے ہیں جس سے آئندہ عدم ادائیگیوں کے مسائل پیدا نہ ہوں اور واجبات بھی اشتہارات کے اجرا کیساتھ ساتھ ادا ہوتے جائیں مزید برآں واجبات کی ادائیگی کو صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کی تنخواہوں سے بھی منسلک کیا جائے ۔ وفاقی وزیر نے خبر رساں ایجنسیوں کیلئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ کو بھی جلد جاری کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ قبل ازیں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے وفاقی وزیر کو میڈیا سے متعلق مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو آزادہ صحافت سے متعلق شدید خطرات کا سامنا ہے ۔ شدید مالی بحران نے ان خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ سرکاری اشتہارات کا کوانٹم بھی انتہائی کم ہو گیا ہے ۔ وفاقی وزیر شفقت محمود سے گزشتہ میٹنگ میں میڈیا کو فوری طور پر واجبات کی ادائیگیوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پرنٹ میڈیا کو تاحال ادائیگیاں نہیں ہوئیں، یہ بھی طے پایا تھا کہ اخبارات و جرائد کو ہر ماہ ایک ارب روپے کے اشتہارات دیئے جائینگے لیکن اسکے برعکس درمیانے اور ریجنل اخبارات کا پہلے سے مختص اشتہاراتی کوٹہ ہی ختم کر دیا گیا ۔ سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے اشتہارات کی تقسیم میں 25فیصد کوٹہ کے خاتمے اور درمیانے ، چھوٹے اور علاقائی اخبارات کیلئے اشتہارات کی بندش پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ علاقائی، مقامی، درمیانے اور چھوٹے اخبارات کی غیر معمولی حوصلہ افزائی کرے ۔نائب صدر سردار خان نیازی نے سرکاری اشتہارات کی منصفانہ اور عادلانہ تقسیم پر زور دیتے ہوئے اخبارات و جرائد کو براہ راست ادائیگیاں کرنے سے متعلق حکومتی نوٹی فکیشن پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر اکرام سہگل نے تجویز دی کہ وزیر اعظم کے احساس پروگرام میں کم تنخواہوں والے صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو بھی شامل کیا جائے ۔نائب صدر انور ساجدی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے سبب اخبارات کی ترسیل نہ ہونے سے اخباری صنعت اب قریب المرگ ہو چلی ہے ۔ سی پی این ای کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عامر محمود نے کہا کہ موجودہ حالات میں جرائد و رسائل گزشتہ دو ماہ سے عدم اشاعت کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں جبکہ حکومتی اشتہاراتی کوٹہ میں 5فیصد جرائد و رسائل کیلئے مختص ہے ۔ مطالبہ ہے کہ حکومت جرائد و رسائل کیلئے فوری طور پر اشتہارات جاری کرے اور خصوصی پیکیج کے ذریعے انہیں بندش سے بچایا جائے اور ملازمین کو بیروزگاری سے بچایا جا سکے ۔ سابق سیکرٹری جنرل اعجازالحق نے حکومت کی جانب سے ریجنل اخبارات کی سرکولیشن کے ضمن میں جاری امتیازی کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام اخبارات کیلئے یکساں اصول وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ جوائنٹ سیکرٹری طاہر فاروق نے خیبرپختونخوا کے علاقائی اخبارات وجرائد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے سینکڑوں افراد وابستہ ہیں اگر سرکاری اشتہارات بند کئے گئے تو میڈیا ملازمین سمیت ہزاروں صحافی بیروزگار ہو جائینگے ۔ جوائنٹ سیکرٹری شکیل احمد ترابی نے خبر رساں ایجنسیوں کیلئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے نجی خبر رساں ایجنسیوں کو جاری نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسیوں کو فوری طور پر بجٹ ریلیز کرنیکا مطالبہ کیا۔ نائب صدور سردار خان نیازی، اکرام سہگل، محمد حیدر امین، انور ساجدی، ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ خان، سابق سیکرٹری جنرل اعجازالحق، چیئرمین پنجاب کمیٹی ارشاد احمد عارف ، سابق انفارمیشن سیکرٹری کاظم خان، سابق نائب صدر ایاز خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل عامر محمود، فنانس سیکرٹری حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکرٹری عبدالرحمٰن منگریو، جوائنٹ سیکرٹری غلام نبی چانڈیو، طاہر فاروق، تنویر شوکت، شکیل احمد ترابی اور عارف بلوچ نے شرکت کی ۔