اسلام آباد (ذیشان جاوید)ملکی تاریخ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے طاقتور نوکر شاہی کو نکیل ڈالنے کیلئے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں سرکاری افسران اور ماہرین کی تجاویز موصول ہوگئیں،ان تجاویز پر غور کیلئے اجلاس آج طلب کر لیا گیا۔ دوسری جانب ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کردہ ٹاسک فورس برائے ادارہ جاتی اصلاحات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افسر شاہی کے دیگر شعبوں کے افسران نے وزیر اعظم کو اپنے تحفظات سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے ۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر تعیناتی کے عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے وزیرا عظم عمران خان نے ڈی ایم جی کے تمام وفاقی افسران کو آج وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں طلب کر لیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ دور حکومت میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی منظوری سے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے افسران نے 10 فروری 2014 کو ایک ترمیمی ایس آر او نمبر 89 (1)/2014 جاری کرایا جس کے مطابق وفاقی سیکرٹریٹ میں سیکرٹری کے عہدے پر تعیناتی کے لیے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کو 65 فیصد، ایڈیشنل سیکرٹری کے لیے بھی ڈی ایم جی گروپ کو 65 فیصد، 20 ویں گریڈ پر بلواسطہ اور بلاواسطہ تعیناتی کے لیے ڈی ایم جی گروپ کو 50 فیصد جبکہ 19 ویں گریڈ پر تعیناتی کے لیے آفس مینجمنٹ گروپ کے کوٹہ میں سے کٹوتی کرتے ہوئے ڈی ایم جی گروپ کو 25 فیصد کوٹہ مختص کر دیا گیا۔ بنیادی طور پر گذشتہ دور حکومت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ڈی ایم جی کو جس قدر بے پناہ اختیارات سے نوازا گیا اس کی مثال آج سے پہلے کبھی نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی ایم جی گروپ کے انہی افسران کو گزشتہ دور میں سیاسی مقاصد میں بھی استعمال کیا جاتا رہا جس کی تازہ ترین مثال عمر رسول کی ہے جنہیں وفاق میں وزارت پانی و بجلی سے اٹھا کر لاہور میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب (ایس اینڈ جی اے ڈی) تعینات کیا گیا جنہوں نے بعد ازاں آشیانہ ہاؤسنگ پراجیکٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں مالی بد عنوانیوں کے الزام میں گرفتار لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کی گرفتاری پر سرکاری مشینری کو منجمد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی طرح کی دوسری اہم ترین مثال سابق وزیر اعظم کے پرنسل سیکرٹری فواد حسن فواد کی ہے جنہوں نے پورے ملک کی بیورو کریسی اور ریاستی و انتظامی امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ جہاں افسر شاہی کے دیگر 11 پیشہ وارانہ محکموں کی کوئی شنوائی نہیں تھی۔ یاد رہے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں تشکیل دی گئی 13 رکنی ٹاسک فورس برائے ادارہ جاتی اصلاحات میں ڈی ایم جی کے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، ڈی ایم جی گروپ کے ہی موجودہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ڈی ایم جی گروپ کے موجودہ سیکرٹری پلاننگ، ڈی ایم جی گروپ کے ریٹائرڈ سابق افسر اعجاز قریشی اور سلمان غنی شامل ہیں۔ ٹاسک فورس کے رکن سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیرسابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے ماتحت بطور ایڈیشنل سیکرٹری وزیرا عظم ہاؤس اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے بعد ازاں فواد حسن فواد کے ساتھ قربت کی وجہ سے انہیں وفاقی سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن لگا دیا گیا۔ آج کل وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور وفاقی سیکرٹری اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔