لاہور (اپنے نیوز رپورٹر سے ) فیروز والہ کچہری میں لیڈی پولیس کانسٹیبل کو وکیل کی جانب سے تھپڑ مارنے اور وکیل کی گرفتاری کے معاملہ کو وکلاء نمایندگان نے من گھڑت اور بد نیتی پر مبنی قرار دے دیا، لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیروز والہ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد سلطان چیمہ نے کہا پولیس نے اپنے منفی تاثر کو ختم کر نے کیلئے واقعہ گھڑا گیا، ڈی ایس پی نے احمد مختار ایڈووکیٹ کے دفتر پر ریڈ کیا ، ڈی ایس پی کے آفس میں ہم نے احمد مختار کو پیش کیا، ایس ایچ او، ڈی ایس پی کی ملی بھگت سے احمد مختار کو ہتھکڑی پہنا کر لیڈی کا نسٹیبل کو ہتھکڑی پکڑا کر ویڈیو اور تصاویر وائرل کی گئیں، مدعیہ کے ہاتھ میں ہتھکڑی پکڑا کر قانون کی خلاف ورزی کی گئی ، علی احمد کا نسٹیبل کے ساتھ احمد مختار ایڈووکیٹ کی تلخ کلامی ہوئی ، لیڈی کا نسٹیبل کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا،اہلکار کہتے ہیں پارکنگ کا مسئلہ تھا یاد رہے پارکنگ میں کوئی خاتون اہلکار ڈیوٹی پر نہیں ۔ ہم یقین دلاتے ہیں فائزہ کو ہماری طرف سے کوئی جان کا خطرہ نہیں، کیس عدالت میں ہے ، ہمارا مسئلہ فائزہ کے ساتھ نہیں بلکہ ہماری کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی،جنہوں نے غلط کام کیا ان کے خلاف استغاثہ دائر کریں گے ، ڈی ایس پی اور ڈی پی او کے معطل ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے ، کسی قسم کا کوئی ویڈیو ثبوت کہ کانسٹیبل فائزہ کو مار پڑی، میڈیکل لا کر دیدیں تھپٹر پڑا تو قانون کے مطابق سزا کے لئے تیار ہیں، شیخوپورہ بار ایسوسی ایشن کے صدررانا زاہد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فائزہ تھپڑ والا واقعہ ہوا تو وکلا احتجاج پر نہیں آئے ، تیس سے چالیس مسلح لوگوں کے ساتھ کانسٹیبل فائزہ آئی، پنجاب حکومت کے ترجمان سے درخواست ہے محکمہ میں ان لوگوں کو رکھیں جو قوانین کو جانتے ہیں، فائزہ بھی ہماری بیٹی ہے ہم نے ملزم کو پیش کیا ، پولیس نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے ۔