کون سمجھے مرا تنہا ہونا یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا کاش خوشبو کی طرح ہو جائے میرا دنیا میں ذرا سا ہونا ایک اور شعر ذہن میں آ گیا ’’پھول کا کھلنا سر شاخ دعا، یعنی امید کا پیدا ہونا‘‘ آج میں بہت اداس ہوں، دو روز پہلے علم ہوا کہ ہمارے دیرینہ دوست جناب خالد علیم تشویشناک صورت حال میں ہیں۔ فون ملانے کی کوشش کی مگر کارگر نہ ہوئی۔ پھر آج نوید صادق سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ مشکل میں ہیں۔ ان کے لیے دست دعا دراز ہے کہ اللہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے انہیں آسودگی بخشے۔ نوید صادق ہی نے ایک پوسٹ پر خالد علیم کا ایک شعر لگایا تھا: اب آنکھ میں کوئی آنسو کوئی ستارا نہیں کچھ ایسے ٹوٹ کے روئے ترے وصال سے ہم میں اشکبار رہا اور بیتے ہوئے کتنے برس یاد آئے کہ جو اس درویش صفت انسان کے ساتھ گزرے۔ وہ ایک قادرالکلام شاعر ہی نہیں زبان کے دروبست بھی جانتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ بیاض کے عمران منظور نے بھی بیاض میں ان کے لیے گوشہ رکھا تھا۔ وہ شریف النفس بھی صحیح معنوں میں ہیں۔ ان کی صحبت بھی تو ایسے ہی پاکباز لوگوں کے ساتھ رہی۔ ان کے والد گرامی علیم ناصری ایک بڑا نام ہے۔ خاص طور پر نعت کے حوالے سے ان کی پہچان ہے۔ علاوہ ازیں ’’شاہنامہ بالاکوٹ‘‘ ان کی تاریخ ساز کاوش کہ سید احمدکے حوالے سے ہے۔خود خالد علیم سیارہ ڈائجسٹ میں حفیظ الرحمن احسن کے دست راست رہے ہیں۔انہیں شاعری میں خاص طور پر رباعی کے حوالے سے دسترس ہے اور وہ کہنہ مشق شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا شمار بلا شبہ اساتذہ میں ہوتا ہے۔ خالد احمد انہیں بہت اہمیت دیتے تھے۔ حامد یزدانی ان کا دوست ہے۔ ہمارا تو ہر وقت کا بیٹھنا اٹھنا تھا۔ جب میں اردو بازار میں باقاعدگی کے ساتھ جاتا تھا۔ خالد علیم کے دفتر میں ادبی محفلیں ہوتیں۔ کسی بھی لفظ کی صحت کا معاملہ ہوتا تو خالد علیم کی طرف ہی دھیان جاتا۔ انشاء اللہ وہ جلد روبصحت ہو کر ہمارے درمیان آئیں گے۔ نوید صادق جیسا مخلص دوست ان کی تیماردار ہی نہیں بلکہ ان کو ساتھ لے کر ڈاکٹرز کے پاس جاتا ہے۔ مجھے آصف شفیع بھی یاد آتا ہے کہ جب بھی وہ قطر سے آتا ہے تو ہم دونوں خالد علیم سے ملنے جاتے ہیں۔ نہایت وضعدار اور پختہ عقیدہ شخصیت، وہ کچھ عرصہ سعودیہ میں بھی رہے۔ ہم نے ان کی نعتیہ شاعری کامجموعہ شائع کیا تھا۔ روش کے ثناء اللہ شاہ اور حاجی عبدالستار بھی ان کے محبت کرنے والوں میں ہیں۔ میرے لکھنے کا ایک مقصد حکمرانوں تک بات پہنچانا بھی ہے کہ ایسے خوددار شخص کی اعانت کرنی چاہئے۔ یقینا افتخار عارف اور دوسرے سرکردہ لوگ ادب میں ایک بڑا مقام رکھتے ہیں اور ہیں اور خالد علیم کو بھی جانتے ہیں کہ وہایک فقیر اور درویش منش انسان ہے ۔ تکالیف پر بس مسکرا دینا اس کی عادت ہے۔ قناعت اور صبر کرنے والا ژخص ہے۔ ان کی بیماری کا سن کر تو ہمارے دل ڈوبنے لگے ہیں۔ خالد علیم کا فیض بہت سے نوجوانوں کو پہنچا ہے۔ وہ اصلاح کریں یا مشورہ دیں کبھی کسی پر احسان نہیں جتاتے بلکہ وہ اپنا فرض سمجھ کر مدد کرتے ہیں۔ ہزاروں کتابیں ان کی نظر سے گزری ہیں مگر اتنی کتابیں خود کے رہنے کی جگہ نہیں رہی۔ وہ خود ایک انسائکلوپیڈیا ہیں۔ خاص طور پر نعت رسول مقبولﷺ ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ وہ بصیرت رکھنے والے شاعر ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی ان سے عمران خان کے حوالے سے چھیڑ چھاڑ چلتی رہی کہ وہ خان کے دیوانے ہیں یا پھر وہ لوٹنے والوں کے شدید خلاف ہیں۔ انہوں نے اس پر نظمیں بھی لکھیں۔ وہ سیاسی اور تاریخی شعور رکھتے ہیں۔ عراق کا منظوم نوحہ بھی انہوں نے لکھا۔ میں ان کی سیاسی نظمیں بھی سوشل میڈیا پر دیکھتا رہا۔ مجھے امید ہے صاحبان بست و کشاد ایک بڑے اور سنجیدہ ادیب اور شاعر کے لیے کچھ نہ کچھ ضرورکریں گے۔ ایسے لوگ زمین پر اللہ کی رحمت کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے بیٹھنے سے محفلیں معطر رہتی ہیں۔ میں انشاللہ اب نوید صادق کے ساتھ ہی ان کی عیادت کو جائوں گا اور ان کا حال احوال جانوں گا۔ قارئین کرم بھی اپنی خصوصی دعائوں میں ہمارے دوست کو یاد رکھیں۔ خالد علیم نے کسی نامعلوم شاعر کاکا شعر بھی شیئر کیا ہے کہ زندہ رہنے کے تھے جتنے اسلوب زندگی کٹ گئی تب یاد آئے بہر حال ہم تو خالد علیم کے ساتھ متفق نہیں کہ زندگی تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ انشاء اللہ وہ ان کو اسلوب برتنے کے مواقع دے گا۔ بہت دعائوں کے ساتھ کہ اللہ اسے اپنی حفاظت میں رکھے اور اسے ظویل صحت والی زندگی عطا فرماے۔ آمین