چیف الیکشن کمشنر نے پاکستان تحریک انصافکی جانب سے پنجاب حکومت پرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات پرصوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے ملتان سمیت دیگر 19 حلقوں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے تحت سخت کارروائی کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر کو تفصیلات سے فوری آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔وائس چئیر مین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے دیگر پارٹی رہنماوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران انتخابی دھاندلی کے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ ایسا ہوا تو ان کی جماعت انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو ہر صورت فتح کی یقین دہانی کروائی گئی اور کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ہر صورت آپ کو سیٹ دلوانی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومت کے تیور دیکھ رہا ہوں، اس بار ان کا انداز کچھ مختلف دکھائی دے رہا ہے ، انہوں نے پہلے ہی جیت کا پلان تیار کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن حمزہ شہباز کے مستقبل کا تعین کرے گا اس لیے وہ اپنی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور لیگی امیدواروں کو کامیاب کروائیں گے۔ الیکشن میں 18 سیٹیں ن لیگ کی اور دو سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لاہور میں پی ٹی آئی امیدوار کے بھتیجے کو سر میں شدید چوٹ لگی، ہکارکنوں پر جان لیوا حملہ ہوا اور مقدمہ بھی پی ٹی آئی پر ہوا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ شاہ محمود قریشی نے اگرچہ پنجاب میں ضمنی انتخابات میں دھاندلی اور حریف امیدواروں کے درمیان تصادم کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے مگر حالیہ دنوں کراچی میں ہونے والے ضمنی الیکشن مین جو تشدد اور بد انتظامی دیکھی گئی اس سے آئندہ انتخابات کی شکل ابھرنے لگی ہے۔کراچی میں ایک کارکن جاں بحق ہوا اور متعدد زخمی ہوئے۔لاہور کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ ملک بھر میں سیاسی اشتعال بے قابو ہو رہا ہے اور متعلقہ ادارے امیدواروں کو ضابطہ اخلاق کا پابند رکھنے میں ناکام ہیں۔قبل ازیں ڈسکہ کا مشہور زمانہ الیکشن ہوا۔اس الیکشن کے دوران جو کچھ ہوا وہ کسی لحاظ سے حوصلہ افزا نہیں ۔تسلسل کے ساتھ انتخابی عمل، الیکشن کمیشن کی اہلیت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں نے پورے انتخابی عمل کو شکوک کا شکار کر دیا ہے۔ انہی ایام میں آئی جی پنجاب نے الیکشن کمیشن سے چودہ اضلاع کے پولیس سربراہ تبدیل کرنے کی اجازت طلب کی جسے الیکشن کمشنر نے مسترد کر دیا۔آئی جی پنجاب ایک زمہ دار افسر ہیں۔پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس تشدد کے الزامات پر سپیکر پنجاب اسمبلی انہیں طلب کر چکے ہیں لیکن حکومت انہیں پیش نہ کرنے پر ڈٹی ہوئی ہے ۔اسمبلی کی بجائے ایوان اقبال میں الگ سے سیشن بلانے کے پیچھے ایک وجہ پولیس اور انتطامیہ کو باز پرس سے بچانا دکھائی دیتا ہے ۔ان حالات میں آئی جی کیوں چودہ اضلاع کے ڈی پی او تبدیل کرنا چاہتے ہیں ؟ انتخابات جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہیں۔اس بات پر تجاویز مختلف ہو سکتی ہیں کہ ووٹنگ کا طریقہ کار کیا ہو لیکن اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ ووٹ ضروری ہے۔ پاکستان غیر معمولی صورتحال کا شکار ہے۔ معاشی اور سیاسی بحران نے ریاست کو کمزور کر دیا ہے۔اس مرحلے پر وہ تمام طبقات جو ریاست سے مفادات کشید کرتے رہے ہیں ان پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ اپنے طرز عمل میں برداشت اور ایثار پیدا کریں۔ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ نطام کا اعتبار برقرار رکھا جائے ،سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی ساکھ تیزی سے تباہ ہو رہی ہے جسے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے حال ہی میں آرمی چیف کو خط لکھ کر انتخابات کے دوران امن و امان یقینی بنانے میں مدد کی درخواست کی ہے۔پاک فوج پہلے بھی متعدد بار انتخابات میں سکیورٹی کی ذمہ داری نبھا چکی ہے۔الیکشن کمشن کے سیکرٹری نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ فوج الیکشن سے دور رہنا چاہتی ہے ۔سیکرٹری الیکشن کیمشن کا کہنا ہے کہ فوج کی اپنی پالیسی ہے جس کے متعلق وہ سوال نہیں کر سکتے تاہم انہوں نے آگاہ کیا کہ رینجرز کے جوان پولنگ سٹیشنوں کے قریب رہیں گے۔غیر معمولی حالت میں غیر معمولی فیصلے کرنے والی قوم جلد بحران سے نجات پا لیتی ہے۔پاکستان کے اداروں اور مقتدر شخصیات نے جمہوری عمل اور ووٹنگ کو ہمیشہ حقیر مفاد کے تناظر میں دیکھا جس کی وجہ سے عوام کو آزادی کی بجائے جبر کا احساس ہونے لگا ہے۔انتخابی عمل آزادانہ اور شفاف نہ ہو تو پورا ریاستی ڈھانچہ عوام کا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ممکن ہے کہ بالئی طبقات نے جس طرح انتخابات کو مہنگا بنا کر اس پر قبضہ کر لیا ہے اسی طرح انتخابی عمل میں تشدد کی آمیزش کر کے امن پسند اور مہذب شہریوں کو لاتعلق بنانے کی منصوبہ بندی کر لی ہو۔تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے جس منصوبے کی نشاندہی کی گئی ہے اس کی صرف تحقیقات کافی نہیں بلکہ بروقت خرابیوں کو دور کرنا اور انتخابات کے دوران ہر ہر نوع کی بے ضابطگی کا انسداد یقینی بنانا ہو گا۔