اسلام آباد(خبر نگار،خبرنگار خصوصی، این این آئی) وفاقی وزیر قانون وانصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کسی سپیشل کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی ،کارروائی کا اختیار متعلقہ ہائی کورٹ کو حاصل ہے ۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز وحدت امت کانفرنس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی ۔وفاقی وزیر قانون وانصاف نے کہا کہ تمام خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی وفاقی حکومت کرتی ہے لیکن ججز کے کنڈکٹ کا معاملہ وفاقی حکومت کا نہیں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا اختیار ہے ۔انہوں نے کہا جج ارشد ملک کے معاملے سے حکومت نے آئین وقانون کے تحت خود کو الگ کیا ہے کیونکہ ماتحت عدلیہ کے ججز کے ڈسپلنری کنڈکٹ پر اٹھنے والے سوالات کا جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ کا بن جاتا ہے ، لیکن ان ججز کے مس کنڈکٹ پر وفاقی حکومت کو کارروائی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ قبل ازیں وحدت امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت ختم نبوت سمیت اسلامی قوانین کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے اور اس حوالے سے ہرقسم کی سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا،اگر خدانخوانستہ کبھی ختم نبوتؐ قوانین میں ٹمپرنگ کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے میں استعفیٰ دے دونگا، میرا دین اور پاکستان لازم و ملزوم ہے ،اسلام آخری مذہب ہے اس کے بعد کوئی دین نہیں آئے گا، پاکستان کی حفاظت بھی خدا خود کرے گا۔انہوں نے کہا پاکستان کا معمار مولوی ہے ، ریاست پاکستان سے اسلام نکال دیا جائے تو ہندوستان سے الگ ہونے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا، عمران خان کی بھی ایسی ہی سوچ ہے ،مولانا عبدالکلام کی سوچ کو ہندوستان میں شکست دے دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا آج ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ مل کر کھڑی ہے ، مسلم امہ کا اتحاد قائم کرنے کی ذمہ داری علماء کی ہے ، سعودی عرب کا روڈ ٹو مکہ مکرمہ میں شامل کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ ہمیں اندرونی خلفشار سے دوچار کرنے والے عوامل کا سدباب ضروری ہے ، آئندہ سال حج فلائٹس کی کسٹمزکلیئرنس اپنے ملک میں ہی ہوگی، انہوں نے کہا عمران خان کے خلاف تمام پروپیگنڈے اسرائیل اور بھارت سے ہورہے ہیں۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام حج کے دوران سیاسی اور مذہبی نعروں سے دور رہنا چاہئے ۔علاوہ ازیں وزیر قانون کی زیرصدارت موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی کابینہ کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ وزیر قانون نے کہا ہے کہ معاشی بد عنوانی سے نبٹنے کے لیئے نیب کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ، کرپشن کے خلاف مضبوط فریم ورک بنانے پر اتفاق رائے ہوا،مزید تجاویز کا خیر مقدم کرینگے ۔