کراچی(سٹاف رپورٹر)’’بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست بحرہندمیں میری ٹائم محرکات پرغوروفکر‘‘کے موضوع سہ روزہ عالمی میری ٹائم کانفرنس کراچی میں اختتام پذیرہوگئی۔ کانفرنس کا انعقادنیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرزنے پاک بحریہ کی سربراہی میں کیاجوکثیرالملکی میری ٹائم مشق ’’امن 2019‘‘ کاحصہ تھی۔ْ کانفرنس کے اختتامی دن پروزیردفاع پرویزخٹک مہمان خصوصی تھے ۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفرمحمودعباسی نے بھی اختتامی سیشن میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے و زیردفاع پرویزخٹک نے کہاکہ عصر حاضر کے میری ٹائم چیلنجزاوربدلتاہوا جغرافیائی منظرنامہ خطے کے شراکت داروں کیلئے نئے خطرات کا باعث ہے ۔موجودہ صورتحال ایک تعمیری بحث اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے میں مددگارثابت ہوگی۔ کانفرنس نے دنیا بھر سے آئے سکالرز کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں وہ عصری بحری چیلنجز پر غور کر سکیں اور بحری امور میں اپنے خیالات کا تبادلہ کرسکیں۔ مہمان خصوصی نے اپنے اطمینا ن کا اظہار کیا کہ کانفرنس کے دوران منعقد ہونے والے مباحثے اور قیمتی تجاویز میر ی ٹائم شراکت داروں کو میری ٹائم پالیسی سازی کے لئے بصیرت عطا کریں گی۔ وزیر دفاع نے کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں ، پینل ممبرز اور وفود کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کو مبارک باد پیش کی۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ ابھرتی ہوئی بحری صورتحال کے تناظر میں پاک چین اقتصادی راہداری نہ صرف پاکستان کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی اور خوشخالی کا باعث بنے گا،سی پیک اور گوادر پورٹ کی ترقی کے ساتھ جنوبی بحر ہندمیں بحری سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا،اس کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ بحری ماحول اور سمندری تجارت کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔قبل ازیں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل ،وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ)سیدخاور علی شاہ نے کانفرنس کے دوران پیش کئے جانے والے مقالوں کا خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے قیمتی وقت نکالنے اورتقریب میں شرکت کرنے پر مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔ مختلف پینلز کے سربراہان نے تجاویزبھی پیش کیں۔چھٹی کثیرالقومی بحری مشق امن 2019 کے تحت،3روزہ بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر سے نامورسپیکرزاورمبصرین کو اکٹھا کیا گیا تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست پر غور کریں ۔تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھرسے وفود، مسلح افواج کے افسران،سکالرز،محققین اور مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔