مکرمی !تخلیق انسان ما دیت و رحا نیت کا حسین امتزاج ہے جہاں جسم و روح دو قوتوں کی شکل میں سا تھ ساتھ چلتے ہیں ۔ جہاں دنیاوی ضرورتیں انسانی جسم کو متوازن رکھتی ہیں وہیں اخلا ق و حصائل اس کی روحا نی ترقی یا تنز لی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ترقی یا تنز لی کا سفر اس کے معا ملات میں نما یاں طو ر پر اثر انداز ہو تا ہے ۔ ہم لا لچ کے جال میں پھنسے کے بجا ئے ایک اطمینان بخش زندگی جی سکتے ہیں اگر ہم میا نہ روی کو اپنا شعار بنا ئیں اور علم الا خلاق کی مدد سے اپنے مادی مسائل کا حل تلا ش کریں۔ہماری ایک تہذیب ہے ۔ جس میں پوری زندگی گزارنے کا فلسفہ ہے ۔ ہمارے ہاں مکمل ضابظہ ِ حیات موجود ہے ۔ ہماری اخلاقی تہذیب ہے ہر ایک کی اپنی حیثیت ہے ۔ ہمارا اخلاق ہمارا سرمایہ ہے جبکہ بے حیائی ٗ فحاشی ٗ عریانی ٗ تہذیب و اخلاق کی پستی نے ہمیں تباہی کے دہانے لا کھڑا کر دیا ۔ ہماری بے حیائی ٗ روشن خیالی ہمیں لے نہ ڈوبے ۔ جدید تعلیم یاقتہ افراد جو کہ اپنی ہی اخلاقی تہذیب ٗ معاشرتی اقدار ٗ حجاب کو ضعف العقیدہ لوگوں کی تخلیق سمجھتے ہیں ۔ ہم کامیابی کا راستہ چھوڑ کر کامیابی کے متلاشی ٗ ایسے ہی ہے جیسے مردہ گھوڑے پر چابک برسانا ۔یہ کامیابی نہیں بلکہ انسانیت ڈوب رہی ہے ۔ہمیں اپنے اسلاف کے نقش ِ قدم پر چلنا ہوگا ۔ہماری جملہ معاشی نظام سودی ہو چکا ٗ جو ترقی نہیں ٗ تنزلی کا باعث ہے۔ (عابد ضمیر ہاشمی‘ آزاد کشمیر)