صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خواتین پر تشدد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے پاکستان میں قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ اس میں شبہ نہیں کہ خواتین پر تشدد ایک بدترین فعل ہے۔ دنیا کا کوئی معاشرہ اور مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام میں تو اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔قرآن عظیم میںمختلف مقامات پر اصلاح معاشرہ اورخواتین کے حقوق کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ہماری ملکی آبادی کا نصف حصہ صنف نازک سے آباد ہے لیکن بدقسمتی سے خواتین پر تشدد کے سینکڑوں واقعات روزانہ ہو رہے ہیں جو اس امر کے غماز ہیں کہ خواتین سے حسن سلوک اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ہمارا معاشرہ خرابیوں اوربہت سی قباحتوں کا شکار ہے جن کا تدارک ہر سطح پر کیا جانا چاہئے۔ صدر مملکت کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کرنا چاہئے بلکہ معاشرے کے بدلتے تقاضوں اور خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی وجہ سے نئے قوانین بھی متعارف کرائے جانے چاہئیں کیونکہ جب تک خواتین کو ان کے حقوق کے حوالے سے قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہم ترقی یافتہ فلاحی سماج کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتے۔