پشاور( خبر نویس ،خبر نگار،نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبر پختونخوا کا 9کھرب 23ارب کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا گیا ،بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا،خیبر پختونخوا حکومت نے 200سے زائد دہرے ٹیکسوں کا خاتمہ کردیا اور کئی ایک ٹیکسوں پر نظرثانی کی ہے ،ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ فراہم کرنیکااعلان کیا گیا ہے ۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کیلئے 317 ارب روپے ،صحت کے شعبے کیلئے ریکارڈ 124 ارب روپے رکھے گئے ۔کورونا ایمرجنسی پروگرام کیلئے 24 ارب روپے ،تعلیم کیلئے 30 ارب، زراعت کیلئے 14 ارب،توانائی کیلئے 11 ارب 43 کروڑ روپے ، قبائلی اضلاع کیلئے مجموعی طور پر 183 ارب روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں جس میں 12 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے ۔صوبائی ترقیاتی پروگرام سے 24 ارب روپے جبکہ سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کیلئے 2 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے ۔ 27 مختلف شعبوں میں سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 8 سے کم کرکے 5 فیصد کر دی گئی ،مختلف کاروباروں کو رجسٹریشن کی شرط پر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ، صوبے کو وفاق سے 477 ارب روپے ملیں گے جب کہ 58 ارب 20 کروڑروپے بجلی کے خالص منافع اور بقایا جات کی مد میں ملیں گے ۔ٹیکسز اور نان ٹیکسز کی مد میں صوبے کو 49 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جب کہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 3 کھرب 17 ارب 85 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد ہے ۔ بجٹ