آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کشمیریوں کے حقوق کے لئے آخری سانس ‘ آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑنے کا اعلان کیاہے۔ یوم دفاع اور یوم شہدا کے موقع پر جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ ہے اور ہم خطے کے امن کو دائو پر لگائے بغیر ہمیشہ تنازع کشمیر کے پرامن حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لئے کسی طرح کی قربانی سے گریزنہیں کریں گی۔ شہداء کے لواحقین سے مخاطب ہوتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جوانوں کی بے مثال قربانیوں اور شہادتوں کی وجہ سے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ اپنے خطاب میں آرمی چیف نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ کہ پاکستان عالمی امن اور تحفظ کا حامل ہے۔ پاکستان عالمی امن سے متعلق ایک حساس اور ذمہ دار موقف رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی برادری یا خطے میں ناخوشگوار ماحول پیدا نہ ہو۔ آزاد ہوتے ہی پاکستان پر اس سے کئی گنا بڑے اور وسائل سے لیس بدنیت ہمسائے بھارت نے جنگ مسلط کر دی۔ کشمیر کے تنازع کا تاریخی جائزہ بتاتا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی کوشش تھی کہ وہ انگریز حکمرانوں سے اپنی ریاست کی الگ حیثیت کی ضمانت لے سکے۔ قانون آزادی ہند کا اعلان ہوا تو تمام ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا پابند کر دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو معلوم تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کی 80فیصد مسلمان آبادی کی رائے کے خلاف بھارت سے الحاق بدامنی اور شدید ردعمل کو جنم دے گا۔ وہ جانتا تھا کہ بھارت کے ساتھ الحاق کی صورت میں اس کو پنڈت نہرو کی پالیسی کا احترام کرتے ہوئے اپنی جاگیروں اور شاہانہ مراعات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف اسے خدشہ تھا کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں وہ غیر ضروری شخصیت بن کر رہ جائے گا۔ معاملات کو اپنے حق میں کرنے کے لئے اسے کچھ مہلت چاہئے تھی۔ یہ مہلت اسے حالات کو جوں کا توں رکھنے کے معاہدے سے ملی۔ یہ ولبھ بھائی پٹیل اور وی پی مینن تھے جنہوں نے نہرو کے ذریعے حالات خراب کئے اور کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش کی‘ پاکستان نے بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنایا اور مجاہدین نے کشمیر کا وسیع علاقہ بھارت کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ بھارت نے خطے میں بدامنی کا بیج بویا اور پھر خود اقوام متحدہ سے رجوع کر کے جنگ بندی کی درخواست کی‘ بھارت نے یہ شرط تسلیم کی کہ جنگ بندی کے بعد وہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق تنازع کشمیر کا حل قبول کرے گا۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سری نگر کے سٹیڈیم میں کشمیریوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کبھی اور کسی صورت میں بھی کشمیر پر قبضہ نہیں کرنا چاہے گا اور نہ کوئی فیصلہ جبراً مسلط کیا جائے گا۔ نہرو نے اقوام متحدہ میں بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا ہے مگر دوسری طرف کشمیر کے بھارت سے الحاق کا گمراہ کن پراپیگنڈا کیا بلکہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو مضبوط کرنے کے لئے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370اور 35اے کی صورت میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا ڈھونگ رچایا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطہ میں امن کی خاطر بھارت اور عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور دیا مگر عیار ہندو ذہن نے عالمی دبائو میں آ کر اگر مذاکرات کی حامی بھری بھی تو بدترین بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیلے بہانوں سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتا رہا۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے دونوں ممالک میں چار باضابطہ جنگیں بھی ہوئیں مگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہو سکا۔ بھارتی حکمرانوں کا یہ وطیرہ بن چکاہے کہ وہ نہ صرف طاقت اور جبر کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کرتے آئے ہیں بلکہ اپنی ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال کر عالمی برادری کو گمراہ کرتے ہیں۔بھارت کی روز اول سے کوشش رہی ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اوربڑی معاشی منڈی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ کر عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر سے غافل رکھے اور کسی حد تک بھارت اپنے عزائم میں کامیاب بھی رہا یہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی اپنی ذمہ داری سے غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوتوا کے پرچارک بھارتی وزیر اعظم نے 5اگست کو عالمی برادری کی عدم توجہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا فرمان جاری کر دیا اور ایک ماہ سے کشمیر میں بدترین مظالم اور طاقت کے بے انتہا استعمال کے باوجود کشمیر کے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔ بھارتی فوج نہ صرف کشمیریوں پر زندگی تنگ کئے ہوئے ہے بلکہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے جس کا جواب پاک فوج مناسب انداز میں دے رہی ہے۔ بھارتی عزائم کوبھانپتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نہ صرف بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کے اندیشے کا اظہار کر چکے ہیں بلکہ کسی مہم جوئی کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ پاک فوج کے سپہ سالار نے آخری گولی آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑنے کی بات کی ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو آرمی چیف کا یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان کی حتی المقدور کوشش ہے کہ عالمی امن کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے مگر پاک فوج مادر وطن کے تحفظ کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ان حالات میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور کشمیریوں سے کیا گیا حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے تاکہ تقسیم ہند کے اس نامکمل ایجنڈا کی تکمیل ممکن ہو اور خطہ میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔