مسجد نمرہ میں خطبہ حج فرماتے ہوئے شیخ بندر بن عبدالعزیز نے امت مسلمہ کو خبردار کیا ہے کہ اللہ کی زمین پر فساد نہ پھیلایا جائے ،اللہ فساد پیدا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مساوات قائم کرو، آپس میں عداوت اور نفرت کو ختم کرو، اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کو معاف کرو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرو اور اپنے وعدوں کو اللہ کی رضا کے لیے پورا کرو۔ شیخ بندر بن عبدالعزیز کا کہنا تھا حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جو استطاعت رکھتا ہے وہ حج ادا کرے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس علاقے میں طاعون پھیلے لوگ وہاں سے باہر نہ نکلیں اور نہ دوسرے علاقوں سے لوگ وہاں جائیں، اپنے علاقوں اور شہروں کے لیے دعا کریں، جب آپ دعا کرتے ہیں تو فرشتے فخر کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، یتیموں ، مسکینوں، کمزوروں، قریبی رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔انہوں نے خطبہ حج میں مزید کہا کہ لوگوں کی طرف سے آنے والے مسائل اور تکلیف پر صبر کرو، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ہر نیکی کا اجر ہے، اللہ نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمایا جائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے، زمین کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ لوگوں کی دی گئی تکلیف پر صبر کریں، دنیا میں جو احسان کرے گا آخرت میں اس کا بھلا ہو گا۔ خطبہ حج کا لازمی رکن ہے ،نبیء کریم ﷺ کے خطبہء حجۃالوداع کے بعد ہر سال حجاج کرام دین اور دنیا کے سماجی معاملات پر رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔تاریخ میں اور کوئی شخصیت ایسی نہیں ملے گی جو یہ دعویٰ کر سکے کہوہ اپنا کام، اپنا مشن مکمل کر کے جا رہی ہے۔ نبی ء کریمﷺوہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنا مشن پورا کیا۔ نہ صرف پورا کیا بلکہ تکمیل پر اپنے صحابہ ؓکو اس پر گواہ بنایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضورﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ قیامت کے روز تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ کی عدالت ہوگی تو اللہ تم لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہاری طرف ایک پیغمبر کو مشن دے کر، پیغام دے کر بھیجا تھا، اس نے اپنا فرض ادا کیا یا نہیں، تو تم لوگ کیا جواب دو گے؟ اس پر صحابہؓ نے اجتماعی آواز سے کہا بلغت وادیت ووفیت، آپ نے پیغام پہنچا دیا اور پہنچانے کا حق پوری طرح ادا کر دیا۔ حضورﷺ نے اس پر آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہایا اللہ تو گواہ رہنا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ کورونا ایک وبائی مرض ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ بیماری متعدی ہے اور اس کی کچھ علامات ہیں جس سے یہ بیماری دوسروں میں منتقل ہوسکتی ہے۔اس وبا اور بیماری میں دنیا کی عظیم طاقتوں کے لیے ایک عبرت ونصیحت ہے، انہیں تکبر بالکل زیب نہیں ہوتا، کرہ ارض در حقیقت ایک خالق ومالک کا ہے، جس کے قبضہ قدرت میں اس کا سارا نظام ہے، جوصبح وشام کو پیدا کرتا ہے، موسموں کو تبدیل کرتا ہے ، زمین سے غلہ نکالتا ہے، آسمان سے پانی کو برساتا ہے،اسی پروردگار کو خدائی کا دعویٰ زیب دیتا ہے اور اسی کی جانب رجوع کرنا بندگی کا شیوہ ہے۔طاعون کی وبا پر رسول اللہ ﷺ نے جو حکم دیا وہ آج کورونا پر منطبق ہوتا ہے ،یہ اسی حکم کی پیروی ہے کہ پچھلے اور رواں برس حجاج کی تعداد کو محدود رکھا گیا۔ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ اور اصول یہ ہے کہ بیماری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔دنیا کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی منشا اور حکم سے ہو رہا ہے۔ اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا اور جب کوئی بیمار پڑتا ہے تو شفا دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے ۔جن احتیاطی تدابیر کا کہا گیا انہیں آج ایس او پیز کہتے ہیں۔ خطبہء حج میں فساد فی الارض کی بابت انتباہ کو دو زاویوں سے سمجھا جاسکتاہے ایک عملی فساد۔جیسے فحاشی عریانیت۔چوری ڈاکہ زنی۔قتل وغارت گری۔ظلم وناانصافی۔حرام خوری۔ناحق کمزوروں کامال دبالینا۔حکام کا شہریوںکے ساتھ انصاف اور مساوات سے کام نہ لینا۔طاقت اور منصب کا غلط استعمال کرنا۔دوسرے کی چیز کو نقصان پہنچانا۔ناحق قتل کرنا۔ مذہبی اور نسلی بنیاد پر کسی کے ساتھ تعصب برتنا۔انسانی حقوق سے محروم کرنا۔اس پر اترانا یاکسی کی جان لینا۔کسی کو ذلیل اور رسوا کرنا۔ کسی کی حیثیت کم کرنے کے لئے اس کا تمسخر اور طنز کرنا۔ کسی پربہتان اور الزام تراشی کرنا۔غیبت کوشعاربنانا۔۔ جھوٹی گواہی دینا۔کسی انسان کو اپنے آپ سے کمتر سمجھنا۔جوا شراب۔اورسود جیسی قبیح چیزوں کا سماج میں عام ہونا۔رحم مادر میں پلنے والے معصوم جانوں کو رزق یاکسی اور خوف سے پیداہونے سے پہلے ہی ماردینا۔مردوخواتین کے درمیان صنفی تفریق کے رجحان کو ہوادینا، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم۔ بے گناہوں کا خون بہانا۔کسی سماجی گروہ کو نشانہ بنانے کے لئے تخریب کاری کرنا۔۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے غلط بات کی تشہیر کرنا۔سیاسی انتقام میں کسی کی کردار کشی کرنا بزرگوں اورکمزوروں کو حقیر تصور کرنا۔ اکثرمسلم معاشرے دہشت گردی، انتہا پسندی اور غاصبانہ قبضے کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں۔کشمیر اور فلسطین کے لوگ آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں لیکن افغانستان کے مسلمان اپنی نا اتفاقی کے ہاتھوں عشروں سے بد امنی کا شکار ہیں۔مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایسے مسلح گروہ فعال ہیں جو ایک طرف مسلمانوں کی نا اتفاقی کی وجہ بن رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کی شناخت کو خراب کرنے کا موجب ہیں۔اصلاح اسی صورت ممکن ہے جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر اجتماعی زندگی کی صورت گری ہو۔