گوادر بلوچستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے پنجاب کیسات مزدوروں کی لاشیں آئیں تو کہرام برپا ہو گیا، سرائیکی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ لوگ کب تک لاشیں اٹھائیں؟ وسیب کے غریب مزدوروں کو بلوچستان میں سالہا سال سے قتل کیا جا رہا ہے، آج تک ایک بھی قاتل گرفتار نہیں ہوا اور کسی مقتول کو انصاف نہیں ملا۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہم اس کے ذمہ دار بلوچستان حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھی ٹھہراتے ہیں کہ وہ پنجاب غریب مزدوروں کی مسلسل نسل کشی پر خاموش ہے۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والے حکمرانوں کے غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ سلوک کے باعث وسیب میں غربت ، تنگدستی اور بیروزگاری انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے غریب دو وقت کی روٹی کے لیے بلوچستان مزدوری کرنے جاتے ہیں اور وہاں دہشت گردوں کے ہاتھوں موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ بیدردی سے قتل ہونے والے سات مزدوروں کا تعلق ضلع خانیوال کے مختلف علاقوں سے تھا، مختلف علاقوں میں تدفین کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب مزدور اسی طرح قتل ہوتے رہیں گے؟ حکمران ، سیاستدان ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں خاموش ہیں، مقتولین کے ورثاء کو اس کا جواب کون دے گا؟ ہمیں معلوم ہے کہ موجودہ واقعے کے بعد بھی ہر طرف خاموشی چھا جائے گی مگر ان سے پوچھئے جن کے لخت جگر بیدردی سے قتل کر دئیے گئے ، قتل ہونے والے نہ تو دہشت گرد تھے ، نہ ڈاکو ، نہ چور، نہ مجرم اور نہ ہی کسی سے ان کا لینا دینا تھا، وہ صرف اور صرف مزدور تھے، آج مزدور تنظیمیں بھی خاموش ہیں، آج انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، آج بلوچستان کا کوئی قوم پرست رہنما بھی نہیں بول رہا ، اس سے بڑھ کر بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان واقعات کو ہمارا مورخ اور شاعر کیوں بیان نہیں کر رہا، ہم انہی کالموں میں درد مندی کے ساتھ لکھتے آ رہے ہیں کہ پنجاب کے کسی بڑے شہر میں کوئی معمولی سا واقعہ بھی ہو جائے تو اسے قیامت سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ، کابینہ اور اعلیٰ افسران اور پوری حکومتی مشینری متحرک ہو جاتی ہے اور اگر چھوٹے شہر میں قیامت ہی کیوں نہ برپا ہو جائے دفاتر میں بیٹھے ہوئے افسران، کابینہ یا وزیراعلیٰ کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ گوادر دہشت گردی کے واقعے کے بعد وسیب میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ وسیب کے شناختی کارڈ سرائیکی زبان میں بنائے جائیں تاکہ وسیب کے قتل ہونے سے بچ سکیں۔ مزدوروں کے قتلِ عام پر عدالت عالیہ بھی خاموش ہے ، ہم نے دیکھا کہ میڈیا پر چھوٹے چھوٹے واقعات پر کئی کئی دنوں تک بحثوں کے سلسلے جاری رہتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ٹی وی چینلز چھوٹے چھوٹے واقعات کی لائیو کوریج کر رہے ہوتے ہیں اور ٹی وی اینکر چھوٹے چھوٹے واقعات پر کئی کئی گھنٹوں تک بول رہے ہوتے ہیں مگر اب جو کچھ ہو رہا ہے سب خاموش ہیں۔ ایک مثال دی جاتی ہے کہ فلاں سے بنگالیوں والا سلوک ہو رہا ہے ، ہم نے دیکھا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بلوچستان کے کچھ لوگوں نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ، میرا سوال اتنا ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں یا ان کو انصاف ملے گا؟ گزشتہ روز سینئر بلوچ قوم پرست رہنما رئوف خان ساسولی میرے دفتر تشریف لائے اور میرے مطالبے سے پہلے انہوں نے سالہا سال سے بلوچستان میں وسیب کے مزدوروں کے قتل کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ سرائیکی الگ اور پنجابی الگ ہے مگر میں یہاں یہ بات کروں گا کہ پنجابی مزدور کا قتل بھی اتنا ہی قابل مذمت ہے جتنا کہ کسی سرائیکی یا کسی بلوچ کا۔ یہ حقیقت ہے کہ رؤف ساسولی جیسے دانشمند سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کرنے اور ان جیسے رہنماؤں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ بلوچ قوم پرست رہنما ہونے کے ساتھ پسماندہ طبقات کی بھی بات کرتے ہیں ، اس کے ساتھ استحکام پاکستان ان جیسے لوگوں کا بنیادی نظریہ ہے کہ یہ لوگ اپنے صوبے کی بات بھی کرتے ہیں ، اپنے صوبے کے وسائل صوبے کیلئے مانگتے ہیں ، اس کے ساتھ فیڈریشن کو بھی مضبوط بنانا چاہتے ہیں ۔ بلوچستان کی لیڈر شپ کا تعلق بالا دست طبقے سے ہے، بلوچستان کو سرداروں کی نہیں غمخواروں کی ضرورت ہے ، بلوچستان کے عام آدمی کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کو بہکانے والے کا اصل چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے ، اس کے اپنے وسائل بہت زیادہ ہیں ، این ایف سی ایوارڈ کے نتیجے میں بلوچستان کو مرکز سے بھی فنڈز ملتے ہیں مگر یہ فنڈز عام آدمی کی بہتری یا بلوچستان کی ترقی کی بجائے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔بلوچستان اور پاکستان کی بہتری اس میں ہے کہ بلوچستان میں سرداروں کی بجائے عام آدمی کو مضبوط کر کے بھارت و افغانستان کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے ۔رؤف خان ساسولی نے ملاقات میں درست کہا کہ بلوچستان میں سالہا سال سے سرائیکی مزدوروں کو قتل کرنے والے نہ صرف بلوچستان بلکہ انسانیت کے بھی دشمن ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ وسیب نے ہمیشہ کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا اور سب کو اپنی آغوش میں لیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مزدور ، محنت کش ہونا جرم نہیں بلکہ مجرم وہ ہیں جو دولت کی ہوس میں وطن سے غداری کرتے ہیں ۔ ٭٭٭٭٭