صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دسویں قومی مالیاتی کمشن کی تشکیل کر دی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان وزیر خزانہ کی حیثیت سے قومی مالیاتی کمشن کے چیئرمین ہوں گے جبکہ مشیر خزانہ اور چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کمیٹی کے اراکین ہوں گے۔ قواعد کے تحت وزیر خزانہ کی عدم موجودگی میں مشیر خزانہ کو کمشن کی صدارت کا اختیار حاصل ہو گا۔ صدارتی فرمان کے تحت کمشن میں سرکاری ماہرین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ کمشن ٹیکس کے معاملات اور قومی آمدن میں صوبوں کے حصے کا تعین کرے گا۔ نیشنل فنانس کمشن یا قومی مالیاتی کمشن 1951ء سے رائج ایک مالیاتی و معاشی پروگرام ہے جس کے تحت قومی محاصل کی تمام صوبوں اور مرکز کے درمیان منصفانہ تقسیم کا طریقہ کار طے کیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان کی شق 160وفاق کو پابند کرتی ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ این ایف سی ایوارڈ کی مدت پانچ سال تک ہوئی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں این ایف سی ایوارڈ میں قومی محاصل میں سے اپنے مختص حصے کو سامنے رکھ کر مالیاتی و معاشی منصوبہ بندی میں استحکام لاتے ہیں۔ ایسے پروگرام کی منصوبہ بندی سے قبل مالیاتی اور معاشی ماہرین‘ ریاضی کے ماہرین کے ساتھ مل کر تفصیلی طور پر ہر چیز کا تجزیہ کرتے ہیں۔ بلا شبہ قومی مالیاتی کمشن صرف محاصل اور وسائل کی تقسیم کا انتظام نہیں بلکہ اس کے ذریعے سے ملک میں سیاسی اور جمہوری عمل کو تقویت ملتی ہے۔2010ء میں ساتواں این ایف سی ایوارڈ طویل مشاورت کے بعد جاری کیا گیا۔ اس وقت شوکت ترین وزیر خزانہ تھے۔ وسائل کی تقسیم کے لئے آبادی کے گنجان ہونے کو معیار قرار دیا گیا۔ این ایف سی ایوارڈ میں یہ اصول مروج ہیں کہ: (i)کسی قومی مالیاتی کمشن میں صوبوں کا حصہ گزشتہ ایوارڈ سے کم نہیں ہو گا (ii)صوبائی اور وفاقی وزرائے خزانے ایوارڈ میں طے پائے معاملات پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گے اور ہر دو سال کے بعد اس سلسلے میں اپنی جامع رپورٹس قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کریں گے۔ 1970ء سے قبل یہ ایوارڈ ایک رسمی سرگرمی سے زیادہ نہ تھا۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے چیف جسٹس حمود الرحمن کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ سقوط مشرقی پاکستان کی وجوہات پر رپورٹ تیار کریں۔ دیگر بہت سی وجوہات کے ساتھ جو چیز نمایاں ہو کر سامنے آئی وہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے عدم مساوات تھی۔ اس وقت وسائل کی تقسیم کا فارمولا گراس نیشنل پراڈکٹ (GNP)پر تھا۔ اس اصول کے تحت جس علاقے سے زیادہ آمدن ہو اسے قومی محاصل میں سے زیادہ حصہ دیا جاتا۔ اس خرابی کا پتہ چلنے کے بعد وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمشن یا ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کو آبادی کی بنیاد پر مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی لئے 1973ء کے آئین میں قومی مالیاتی کمشن کا ذکر کرتے ہوئے اس کی معاشی‘ سیاسی اور فلسفیانہ جہات کو اہمیت دی گئی۔ اس ایوارڈ کی نئے سرے سے تشکیل اور آئینی تحفظ ملنے کے بعد پہلے ایوارڈ پر بھٹو حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل عملدرآمد کیا۔ ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر آصف علی زرداری کے دستخط سے منظور ہوا۔ اس ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم پر اس لحاظ سے تنازعات رہے کہ 17وفاقی وزارتیں ختم کر کے ان کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے لیکن صوبے ان معاملات پر اپنا انتظامی ڈھانچہ فعال کرنے سے قاصر تھے۔ آئینی طور پر اختیارات منتقل کرنے کے باوجود عملی طور پر وفاق ان فرائض کی انجام دہی کر رہا تھا‘ پھر بھی صوبوں کے حصے میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ 2016ء سے جون 2020ء تک نویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت معاملات چلانے پر اتفاق ہوا۔ ساتواں ایوارڈ نو برس تک جاری رہا لہٰذا اس کی دوسری مدت کو آٹھواں ایوارڈ قرار دیدیا گیا۔ نویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے لئے بھی متعدد اجلاس ہوئے جن میں خیبر پختونخواہ نے فاٹا کے انضمام کے باعث اخراجات میں اضافے کے پیش نظر فنڈز میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ مسترد کردیا گیا۔ سندھ حکومت بھی ضلع ٹیکسں کی چھوٹ کے بدلے ملنے والے فنڈز میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ بلوچستان کا مطالبہ تھا کہ اس کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ سکیورٹی ضروریات سے نمٹا جا سکے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے لئے کے پی کو جو ایک فیصد اضافی حصہ ملتا تھا وہ بلوچستان کو منتقل کیا جائے۔ بلوچستان نے قدرتی معدنیات پر رائلٹی میں اضافہ کا مطالبہ بھی کیا۔ پنجاب میں گیارہ کروڑ کی آبادی ہے۔ کروڑوں افراددور دراز کے اضلاع میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پنجاب کو ترقی اور بنیادی سہولیات کے لئے فنڈز درکار ہیں۔ گزشتہ دو ایوارڈ اپنی آئینی مدت پر اعلان نہ ہو سکے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور وفاق اور صوبوں میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث متبادل انداز میں منظوری ملتی رہی۔ تحریک انصاف کی حکومت کو قومی اسمبلی میں چند نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ خیبر پختونخواہ کے سوا کہیں اسکی مضبوط حکومت نہیں اس کے باوجود وزیر اعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان برسوں سے تنازعات کے شکار معاملے کو طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وسائل بنیادی طور پر انسانوں پر خرچ ہوتے ہیں اس لئے امید ہے کہ محاصل کی تقسیم کے لئے پہلے سے موجود طریقہ کار کو جاری رکھا جائے گا تاہم نئے حالات میں جس صوبے کو کسی خاص حوالے سے زیادہ فنڈز کی ضرورت ہو اس کے لئے الگ سے طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے بس یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ وسائل کی تقسیم بروقت اور منصفانہ رہے۔