پشاور کے علاقہ یکہ توت میں خودکش حملہ کے نتیجے میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 20افراد کی شہادت اور درجنوں کے زخمی ہونے پر سکیورٹی خدشات تشویشناک رخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اے این پی کی سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ یاد رہے کہ ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی طالبان کے دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنے تھے۔ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک ‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں نے اس افسوسناک واقعہ پر اظہار افسوس کیا ہے۔ پاکستان کے اداروں اور عوام کی جرات اور بہادری قابل داد ہے کہ انہوں نے گزشتہ 17برس کے دوران چومکھی جنگ لڑی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ایک طرف ملک کو ایک کھرب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچایا اور دوسری طرف فوجی جوانوں‘ سیاسی رہنمائوں‘ پولیس اور عوام کے تمام طبقات نے جان و مال کی قربانیاں دے کر دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے۔ اس جنگ میں کراچی کا سانحہ کارساز آتا ہے جس میں پیپلز پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن مارے گئے۔ پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت ہے‘ اے این پی کے میاں افتخار حسین کے جواں سال اکلوتے فرزند اور بشیر بلور کی شہادت بھی اس جنگ کے سیاسی محاذ پر دی گئی قربانیوں کا ناقابل فراموش حصہ ہیں۔ بلا شبہ دہشت گرد ایسی بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار کے طور پر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ انتخابی عمل کو غیر محفوظ ثابت کر کے یہ لوگ پاکستانی عوام کے حق حکمرانی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ عوام ڈر کر سیاسی عمل سے دور رہیں اور ان کے سر پرست دنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ سکیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام ناقابل عمل ہے۔ انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ دہشت گرد پرامن انتقال اقتدار کے عمل کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان خدشات کی ایک بنیاد تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی موت کا بدلہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ ملا فضل اللہ ایک مدت سے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس نے درجنوں بار پاکستان کے عوام کی زندگی کو ہدف بنایا۔ افغانستان میں صورت حال تبدیل نہ ہوتی اور امریکہ کو پاکستان کی مدد درکار نہ ہوتی تو اب بھی فضل اللہ اپنی پناہ گاہ میں بیٹھا ہوتا۔ پاکستان نے امریکہ سے واضح انداز میں مطالبہ کیا کہ پاکستانی عوام کی زندگی خطرے میں ڈالنے والے ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی نہ کرنا امریکہ اور افغانستان کے کردار کو مشکوک بناتا ہے۔ جونہی ملا فضل اللہ مارا گیا جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان سے ملحق افغان علاقوں سے دہشت گردوں نے پاکستانی علاقے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔ ایسی کوششوں کو سکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا۔ انتخابی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو خفیہ اداروں نے دہشت گردانہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا۔ ایسے خدشات کی بنیاد پر سیاسی رہنمائوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کی سفارشات بھی سامنے آئیں۔ الیکشن کمشن کی طرف سے ہارون بلور کی شہادت کے بعد سکیورٹی اداروں کے ناکافی انتظامات پر تنقید کی گئی ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کے پی کے نے واقعہ کے فوراً بعد اعلیٰ سطحی اجلاس میں سکیورٹی امور کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور واقعہ کی بنیاد بننے والی انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی کی کوشش کی ہے۔ یہ سب تدابیر اپنی جگہ لیکن ایسے انتظامات اگر پہلے سے کر لیے جاتے تو 20انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے حکومت اور سکیورٹی اداروں کی توجہ کا محور آخری تین دن کے انتظامات رہے ہیں۔ بتایا جاتا رہا ہے کہ انتخابات سے تین دن پہلے سکیورٹی سے متعلق تمام امور مکمل کر لیے جائیں گے۔ پولنگ سٹیشن پر فوج‘ رینجرز اور پولیس اہلکار موجود ہوں گے۔ الیکشن کمشن نے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے اس کے تحت سکیورٹی اہلکار پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر تعینات ہوں گے اور امن و امان کی صورت حال قابو میں رکھیں گے۔ سکیورٹی افسران و اہلکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ ریٹرننگ افسر اور پریذائیڈنگ افسر سے مکمل تعاون کریں۔ سکیورٹی اہلکار ووٹروں اور پولنگ کے عملے سے مہذب رویہ رکھیں گے۔ سکیورٹی عملے کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کی بھی ہدائت کی گئی ہے۔ کسی شخص کو اسلحہ یا موبائل فون پولنگ سٹیشن کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولنگ سٹیشنوں پر سکیورٹی اہلکار پریذائیڈنگ افسر کی ہدائت پر عمل کے پابند ہوں گے۔ وہ کسی بھی بے قاعدگی کی صورت میں فوج اور سول فورسز کو آگاہ کرنے سے پہلے پریذائیڈنگ افسر کو آگاہ کریں گے۔ سکیورٹی اہلکار و افسران اس بات کے مجاز ہوں گے کہ پی او کی جانب سے درپیش صورت حال پر کوئی ایکشن نہ لیا جائے تو وہ اپنے افسروں کو صورت حال سے آگاہ کر سکیں۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی افسر کسی بھی ووٹر سے ووٹ کی پرچی نہیں مانگیں گے اور نہ ہی انہیں پولنگ سٹیشن میں داخلے سے روکیں گے۔ انتخابات کے روز یہ انتظامات یقینا انتخابی عمل کو غیر جانبدار اور پرامن ماحول میں کرانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مگر ہمیں جس صورت حال کا سامنا ہے اس میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران خطرات پریشان کن ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ دو انتخابات کی نسبت اس بار انتخابات کا ماحول بڑی حد تک پرامن رہا ہے۔ پشاور میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد امیدواروں اور سیاسی قائدین کی حفاظت کے انتظامات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جن علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا زیادہ خطرہ ہے وہاں سرچ آپریشن‘ انٹیلی جنس نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشت گردوں کو ناکام بنایا جائے۔ سیاسی اجتماعات میں انجان اور ناواقف افراد پر نظررکھی جائے انتخابی مہم کے لیے ایسے ذرائع استعمال کرنے کو ترجیح دی جائے جو امیدواروں کی حفاظت یقینی بناتے ہوں گے۔ پشاور میں دہشت گردی کے واقعہ کو بعض حلقوں نے نظریاتی تقسیم کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر یہ طرز عمل درست نہیں۔ پاکستانی قوم کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعت کوئی بھی ہو۔ مرنے والے کا طبقہ اور علاقہ کوئی بھی ہو ہمیں متحد اور یکسو ہو کر اس سفاکیت کا مقابلہ کرنا ہے جو پاکستان کو بدامنی کا گہوارہ ظاہر کرنے کو کوشاں ہے۔ یکہ توت میں شہید ہونے والوں کی موت پر ہمارا ردعمل ہمارے عزم کا ثبوت ہو گا اس لیے اس واقعہ کی مذمت کے ساتھ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنے حصے کے کردار پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔