اسلام آباد(خبر نگار،آئی این پی)سپریم کورٹ نے ججوں اور سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ابزرویشن دی ہے شہریت سے متعلق قانون میں خامیاں موجود ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئررضوی نے موقف اپنایا دوہری شہریت کے قانون میں ترمیم کا جائزہ لے کر سفارشات حکومت کو دیں گے ۔ جسٹس عمرعطابندیال نے کہاقانون میں سقم ہے ،خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔چیف جسٹس نے کہا عدالت شہریت کے حوالے سے خامیوں کے معاملہ کو نمٹانا چاہتی ہے ۔ اعتزازاحسن نے کہا ایک بڑا سقم یہ ہے کہ پاکستانی خاوند کی بیوی پاکستان کی شہریت اختیار کرسکتی ہے لیکن بیوی کے غیر ملکی خاوند کو پاکستان کی شہریت نہیں مل سکتی،جب میں وزیر داخلہ تھا تو بے شمار شکایات اس ضمن میں موصول ہوئی تھیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دہری شہریت کے حامل سرکاری افسران کی فہرست جمع کراتے ہوئے بتایا فہرست کے آخر میں کچھ نام حذف کیے گیے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا ہمارے شہریوں کا کرنا کیا ہے ؟ اور کس نے کرنا ہے ؟،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئررضوی نے کہایہ کام حکومت نے کرنا ہے ، چیف جسٹس نے کہا سارا معاملہ سرکار ی ہے مگر سرکار کہاں ہے ،مسئلہ آج بھی موجود ہے ۔ بعد ازاں سماعت سوموار تک ملتوی کردی گئی۔آئی این پی کے مطابق سپریم کورٹ نے کیس میں سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید کو عدالتی معاون مقرر کردیا۔ادھر عدالت عظمٰی کے سات رکنی لارجر بینچ نے دہری شہریت کی بنیاد پر نااہلیت سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا دہری شہریت پر نااہلیت دائمی ہے یا عارضی ہے ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا سات رکنی بینچ قانون اور طریقہ کار وضع کرے گا اور یہ حکم پھر دیگر کیسز پر انفرادی طور پرلاگو کیا جائیگا۔جسٹس گلزار احمد نے ریما رکس دیئے سوال یہ نہیں دہری شہریت ترک کرنے پر نااہلیت ختم ہوجائے گی بلکہ سوال یہ ہے کہ جب کسی نے ایک دفعہ پاکستان کی شہریت ترک کرکے کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرلی تو پھر وہ ہمیشہ کے لئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کے لئے نااہل ہوجائے گا؟۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے اراکین اسمبلی کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کا آغازکیا تو عبدالرؤف رند کے وکیل حامد خان کے دلائل پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہاسوال صرف یہ ہے کس مرحلے پر شہریت چھوڑی جا سکتی ہے ؟،حامد خان نے کہامختلف ممالک میں شہریت چھوڑنے کا طریقہ کار مختلف ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاصادق علی میمن کے کیس میں نظر ثانی کی درخواست خارج کر چکے ہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کچھ لوگ صرف درخواست اور پاسپورٹ دے کر کہتے ہیں شہریت چھوڑ دی، قانون کا جائزہ لیا تو صرف پاسپورٹ واپس کرنے سے شہریت ختم نہیں ہوتی، یہ بھی دیکھنا ہے دہری شہریت خود لی یا پیدائشی ملی۔ عدالت نے سماعت وکیل علی ظفر کی طرف سے التوا کی درخواست پر ملتوی کرتے ہوئے قراردیا مزید سماعت دو اکتوبر کو کی جائے گی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاآئندہ سماعت پرکسی بھی صورت التوا نہیں ملے گاکیونکہ معاملہ عوامی اہمیت کا ہے ،کیس میں جلدی فیصلہ کرنا ہے لیکن علی ظفر صاحب کی التوا کی درخواست ہے ،چودھری سرور اور اس کیس میں نکتہ ایک ہی ہے کہ کیا صرف درخواست دینے سے شہریت ختم ہو جاتی ہے یا پھر دوسرے ملک کا سرٹیفکیٹ لینے سے شہریت ختم ہو گی ، ہمیں تمام کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ کرنا پڑے گا، دیکھناہے شہریت کس صورتحال میں لی گئی۔