وزیر اعظم کے معاونین خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اورمعاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدورس نے دوہری شہریت کے معاملے پر اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کی جانب سے دونوں معاونین خصوصی کے استعفے منظور کرنے کے علیحدہ علیحدہ نوٹی فیکشن جاری کر دئیے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر ان کے 15معاونین خصوصی اور مشیروں نے اثاثہ جات کی تفصیلات اور دوہری شہریت ظاہر کی۔اس سے قبل اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے دوہری شہریت کے حامل معاونین خصوصی اور مشیروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفوں کا مطالبہ کیا تھا۔گو پاکستان کے آئین و قانون میں ایسی کوئی قید نہیں کہ دوہری شہریت کا حامل شخص مشیر یا معاون خصوصی نہیں بن سکتا۔ دوہری شہریت کے حامل افراد کو ملک سے وفاداری ترک کر کے نئے ملک کے آئین و قوانین کا وفادار رہنے کا حلفیہ اقرار کرنا پڑتا ہے جس کے بعدانکی وفاداری تقسیم ہوتی ہے۔ایک شخص کی وفاداری تقسیم ہو وہ کس طرح آپ کے ملکی راز محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ویسے بھی دوہری شہریت کے حامل افراد آپ کے کلچر اور معاملات سے آگاہ نہیں ہوتے ،ان کے مفادات کہیں اور وابستہ ہوتے ہیں، وہ بریف کیس اٹھا کر آتے ہیں، پانچ برس سفید اور سیاہ کے مالک بننے کے بعد کمبل جھاڑ کر واپس چلے جاتے ہیں، جس کے کئی طرح کے نقصانات ہوتے ہیں اور ملکی راز افشاں ہونے کے خدشات جنم لیتے ہیں ۔ معین قریشی اور شوکت عزیز نے یہاں پر کیا کیا گل کھلائے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ وہ نہ صرف حساس رازوں سے پوری طرح واقفیت رکھتے تھے بلکہ کئی مرتبہ ان کا عینی مشاہدہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ مشیران اور معاونین خصوصی امپورٹ کرنے سے آپ کے ذہین فطین افراد اور سیاسی کارکنوں کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔ آپ اس وقت باہر سے کسی کو یہاں لائیں جب آپ کے پاس جوہر قابل کی کمی ہو۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مٹی اس قدر ذرخیز بنائی ہے کہ یہاں کسی قسم کی کمی نہیں ۔در اصل غیر ملکی حلف یافتہ انہیں کے وفادار ہوتے ہیں جن کے آئین کا انھوں نے حلف لے رکھا ہوتا ہے۔ ان افراد کو اگر پاکستان کی خدمت کا شوق ہے تو صرف پاکستانی شہریت کو ہی ترجیح کیوں نہیں دیتے۔ اس سے وہ پاکستان کی دل کھول کر خدمت کرسکتے ہیں ۔ گورنر پنجاب چودھری سرور ان کے سامنے ایک مثال موجود ہیں۔لیکن جو لوگ پاکستانی شہریت پر دوسرے ملکوں کی شہریت کو ترجیح دے رہے ہیں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ ہمارے قومی سلامتی کے راز باہر جا کر افشا نہیں کریں گے۔ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ مجریہ 1951ء کی دفعہ 14کی ذیلی دفعہ ایک میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ پاکستان کا کوئی شہری کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتے ہی پاکستان کی شہریت سے محروم ہو جاتا ہے۔ جبکہ آئین کی دفعہ پانچ‘ ذیلی دفعہ ایک ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کا ہر شہری ریاست کا وفادار اور آئین اور قانون کا تابع فرمان ہو۔ دوہری شہریت کے حامل معاونین خصوصی اور مشیران نے جب پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا تو وہ کیسے آپ کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔2012ء اور 2018ء میں سپریم کورٹ دوہری شہریت کے معاملے پر واضح فیصلہ دے چکی ہے۔ انھیں فیصلوں کی روشنی میں کئی ممبران اسمبلی کو ممبر شپ سے محروم ہونا پڑا تھا ۔اس لئے اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف درست ہے کہ ایسے افراد کو حکومتی ذمہ داریوں سے الگ کیا جائے۔ہمارے سیاستدان جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمسائیہ ملک کی مثال دیتے ہیں ،اتنی زیادہ آبادی ہونے کے باوجود کبھی آپ نے سنا کہ وہاں کے وزیر اعظم نے کسی دوہری شہریت کے حامل فرد کو اپنا مشیر یا معاونین خصوصی بنایا ہو ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دو معاونین نے استعفیٰ دیا ہے، جس کی ہر سطح پر تحسین کی جا رہی ہے۔ لہٰذا اخلاقی طور پرباقی معاونین خصوصی اور مشیران کو بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے الگ ہو جانا چاہیے ۔پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے پاس اکثریت موجود ہے ،جس میں بڑے جوہر قابل ہیں ۔اس کے علاوہ حکمران جماعت کے اتحادی بھی موجود ہیں لہٰذاوزیر اعظم کو اپنی جماعت اور اتحادیوں کو ذمہ داریاں سونپنی چاہیں تاکہ وہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق 2018ء میں جو قوم سے وعدے کیے تھے‘ انہیں عملی جامہ پہنا کر سرخرو ہوں ۔ اس سے نہ صرف ان کی جماعت پی ٹی آئی مضبوط ہو گی بلکہ کارکنان کے مسائل بھی بہتر انداز میں حل ہونگے۔گزشتہ دو برسوں میں تحریک انصاف کی کارکرگی قابل رشک نہیں رہی ، پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کی ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایوان اور پارٹی میں ان کی بات نہیں سنی جاتی ۔کراچی سے دو ایم این ایز نے تو مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا ،جنہوں نے وزیر اعظم کی یقین دہانی کے بعد اپنا اعلان واپس لیا ہے ۔اسی طرح ان کے شکایات و شکوے بھی دور ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ ملکی حساس معلومات باہر نہ جائیں اور ان کے پارٹی رہنما بھی مزید دلجمعی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کریں ۔بالفرض اگر دوہری شہریت کا حامل کوئی شخص پاکستان کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہے تو پاکستان کی محبت میں شہریت ترک کر دے اس سے نہ صرف ان کی حب الوطنی کا اندازہ ہو گا بلکہ ناقدین بھی خاموش ہو جائیں گے۔