وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو تعلیم و تربیت کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ملک بھر میں قائم ہزاروں مدارس ہماری دینی شناخت کا استعارہ ہیں۔ لیکن پاکستان کی کسی حکومت نے ان مدارس کی طرف کبھی ہمدردی کی نظر سے نہیں دیکھا‘ ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی اور نہ ان کو حل کرنے کی سعی کی‘ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی قوم سے اپنے پہلے خطاب میں دینی مدارس اور ان میں زیر تعلیم 30لاکھ سے زائد طلبہ کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ ان طلبہ کو قومی دھارے میں لانا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر وزیر اعظم کے اس اعلان کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا‘ حقیقت بھی یہی ہے کہ دینی مدارس کو نئی حکومت کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور مدارس میں دینی نصاب کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق جدید تعلیم کو فروغ دینا چاہیے‘ اس سلسلہ میں اتحاد تنظیم المدارس کی قیادت حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر لائحہ عمل کرے اور انہیں اپنے مدارس میں جہاں جہاں جدید تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے حکومت کو اس سے آگاہ کیا جائے اور اگر اس سلسلہ میں انہیں مالی معاونت کی ضرورت ہے تو اس کو زیر بحث لا کر مدارس کے لیے ایسا جدید نصاب تعلیم مرتب کریں جس سے طلبہ کمپیوٹر اور دوسرے جدید علوم و فنون کی تعلیم سے بھی بہرہ مند ہو سکیں تاکہ وہ بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کر سکیں۔ جدید تعلیم کا حصول دینی مدارس کے لیے نہ صرف ملازمتوں کے حصول کا باعث بنے گا بلکہ دینی ‘ دنیاوی تعلیم سے لیس ہونے کے سبب دوسرے طلبہ کے مقابلے میں زندگی کے مختلف شعبوں میں وہ زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔