مسلسل دو بار بھارت کے وزیر اعظم رہنے والے نریندر مودی نے تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھالیا ہے،تاہم اس بار ان کی جماعت ماضی جیسی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ نریندر مودی کو حکومت سازی کے لئے اپنے اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑا ہے۔73 سالہ مقبول لیکن تقسیم کی سیاست میں ماہر مودی جواہر لعل نہرو کے بعد دوسرے بھارتی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے تیسری پانچ سالہ مدت کے لیے اقتدار سنبھالا ہے۔ان کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی، نے 2014 اور 2019 میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، حالیہ عام انتخابات میں اکیلے حکومت بنانے کے لیے انہیں اکثریت حاصل نہ ہو سکی۔ تاہم مودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ جب مودی کی قیادت میں بی جے پی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے ایک دہائی کے بعد اپنے علاقائی اتحادیوں کی حمایت کی ضرورت پڑی۔ حتمی انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی بی جے پی نے 240 نشستیں حاصل کیں، جو کہ اکثریت کے لیے درکار 272 نشستوں سے بھی کم ہیں۔ این ڈی اے اتحاد میں شامل جماعتوں نے مل کر 543 رکنی ایوان زیریں میں 293 نشستیں حاصل کیں۔مودی کی مخلوط حکومت اب اقتدار میں رہنے کے لیے دو اہم علاقائی اتحادیوں ، جنوبی آندھرا پردیش ریاست میں تیلگو دیشم پارٹی اور مشرقی ریاست بہار میں جنتا دل (متحدہ) پر انحصار کر رہی ہے۔ مودی کی سیاسی حریف، دوبارہ سے مقبولیت حاصل کرنے والی کانگریس پارٹی کے زیرقیادت انڈیا اتحاد نے، توقع سے زیادہ مزاحمت دکھائی اور 232 سیٹیں جیتیں۔بی جے پی کی یہ محتاجی حکومت کی آئندہ پالیسیوں پر اثر انداز ہوگی، خصوصا اقلیتوں کے ساتھ برتاو کے سلسلے میں۔ پاکستان کو نئی مدت کے دوران مودی حکومت سے کوئی اچھی توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔مودی کشمیر کے تنازع پر بات چیت،پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی،دو طرفہ تجارت ،عوامی رابطوں، کھیلوں و ثقافتی وفود کے تبادلے اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی طرف نہیں آسکتے ۔یہ ان کی انتہا پسندانہ سیاست کی نظر میں کامیابیاں ہیں۔ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ وہ داخلی تصادم سے بچ کر اس بار عالمی سطح پر توجہ مرکوز رکھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے طور پر نریندر مودی کا تیسرا دور بھارت کے مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، جنہیں 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے پسماندگی میں دھکیلا گیا اور ان پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں کو زیادہ محرومی، تحفظ کے مسائل، اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ خدشات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔بتایا جا رہا ہے کہ مودی کے دس سالہ اقتدارمیں پسماندگی اور امتیازی قانون سازی میں نمایاں اضافہ ہوا، مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ان کے دور میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدت آئی۔ جس میں اکثر مسلمان ہندو قوم پرستوں کی جارحیت کا نشانہ بنتے رہے ہیں، انہیں وحشیانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ گائے کے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کے استعمال کے شبہ میں ہندو ہجوم کے ذریعہ لنچنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ واقعات، جنہیں عام طور پر "گائے کی سیوا" کہا جاتا ہے، ان میں ایسے ہجوم شامل ہیں جو ان افراد پر حملہ کرتے ہیں جن پر گائے کو نقصان پہنچانے کا شبہ ہو،گائے کو ہندوؤں کے نزدیک مقدس سمجھا جاتا ہے۔ مودی کی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تشدد پسندہجوم کو سرپرستی فراہم کرتی ہے۔ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، عام طور پر اقلیتیں اور خاص طور پر مسلمان اس کے نشانے پر ہیں۔ مسلمانکبھی بھی بہت خوشحال کمیونٹیز کی طرح نہیں تھے، لیکن ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کی پسماندگی مزید گہری ہوئی ہے۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو معیشت اور سیاست کے میدان سے نکال دیا ہے۔2019 میں، نریندر مودی نے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختاری کی حیثیت کو منسوخ کر دیا، جو بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے،بی جے پی اسے مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں لائی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، مودیانتظامیہ نے ایک متنازع شہریت کا قانون متعارف کرایا جس میں خاص طور پر مسلم تارکین وطن کو شامل نہیں کیا گیا، جس سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔اس دوران بی جے پی کی مقامی حکومتوں نے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے یا فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے جیسی وجوہات بتاتے ہوئے مسلمانوں کی ملکیتی جائیدادوں کو بلڈوز کر دیا ہے۔مودی کے دور میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدت آئی ہے، جس میں اکثر ہندو قوم پرستوں کی جارحیت کا خمیازہ مسلم آبادی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔بھارت کی نصابی کتابوں میں تاریخی نظر ثانی کی لہر بھی آئی ہے جس کا مقصد مغل دور کی اہمیت کو کم کرنا ہے۔ بی جے پی نے اسلامی حکومتوں کے آثار کو مٹانے کی کوشش میں شہروں اور گلیوں کے نام بدل دیے ہیں۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ مودی کی تیسری مدت کے دوران یہ رجحانات جاری رہ سکتے ہیں، یا اس میں بھی شدت آ سکتی ہے، جس سے بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کو مزید پسماندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔