میں تقریباً نصف کالم لکھ چکا تھا کہ یہ روح فرسا خبر آگئی کہ بھارتی پارلیمنٹ نے اپنے آئین سے 70سالہ پرانی کشمیری دفعہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے لہٰذا پہلے سے لکھا گیا کالم مجھے قلم زد کرنا پڑا۔ دل و دماغ کی حیرانی ویرانی میں بدل گئی ہے۔ اس عالم میں سمجھ میں نہیں آتا کہ لکھوں تو کیا لکھوں۔ 90سالہ بوڑھے کشمیری مجاہد نے دو روز قبل مستقبل میں جھانکتے اور مکروہ بھارتی عزائم بھانپتے ہوئے اس امت مسلمہ کو پکارا تھا جس کے بارے میں حکیم الامت علامہ اقبال نے فرمایا تھا: خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی سید علی گیلانی کی پکار ذرا کان لگا کر سنیے ’’اگر ہم سب اہل کشمیر مر گئے اور آپ چپ رہے تو آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ بھارت کشمیر تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے جا رہا ہے اللہ ہماری حفاظت فرمائے‘‘ بوڑھے مجاہد کی پکار کا مخاطب 57اسلامی ممالک کا ہر حکمران ہے‘ ڈیڑھ ارب آبادی پر مشتمل امت مسلمہ کا ہر فرد بھی ہے اس عظیم قوم کا ہر صاحب احساس شاعر بھی ہے۔ ہر صاحب عقل و خرد دانشور بھی ہے اور سب سے بڑھ کر ہر صحافی‘ ہر اینکر اور سوشل میڈیا پر متحرک ہر مردوزن بھی ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370کیا ہے؟ یہ ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور ‘ خارجہ معاملات اور مواصلات کے علاوہ مرکزی حکومت کو کشمیر کے معاملات میں دخل اندازی کا حق نہ تھا۔ اس دفعہ کے تحت بھارت کا کوئی شہری ریاست کے اندر جائیداد خرید نہیں سکتا1954ء میں آرٹیکل 35اے بھی لاگو کیا گیا جس کے تحت جموں و کشمیر کی اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ ریاست کا مستقل شہری کون ہو گا۔ اسی آرٹیکل کے تحت ریاستی اسمبلی نے طے کیا کہ ریاست کا وہی شہری ہو گا جو یہاں جنم لے گاباہر سے آ کرکوئی ریاست کا شہری نہیں بن سکتا۔ اب جبکہ ریاست ہی نہ رہی توپھر آرٹیکل 35اے کا نفاذ چہ معنی دارد۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا یہ ہے کہ کیا یہی تھی کشمیر پر ثالثی ؟ یعنی ہمارے حصے میں وائٹ ہائوس کا ریڈ کارپٹ اور بھارت کے حصے میں ریاست جموں و کشمیر کا بٹوارہ اور ریاست کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ بھارت وادی کشمیر میں سکوت مرگ کیوں پیدا کر رہا ہے۔ بھارت نے دفعہ 144نافذ کر دی تھی۔ سری نگر میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ موبائل انٹرنیٹ ٹی وی نشریات معطل نریندر مودی نے وہ کیا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ بھارتی آئین کے منہ پر کالک ملنے کے لئے اس سے پہلے کانگریس یا بی جے پی کا کوئی حکمران تیار نہ ہوا۔ مودی نے اپنی اس بدنیتی پر عمل پیرا ہونے کے لئے کشمیر میں 7لاکھ بھارتی فوجیوں میں مزید 70ہزارکا اضافہ کر دیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ بھیڑیا صفت فوجیوں‘ توپوں‘ بندوقوں‘ ٹینکوں اور کلسٹر بموں کے ذریعے کشمیر کو وادی موت میں بدل دے گا۔ نہتے بھارتی شہریوں اور کشمیریوں پر مظالم توڑ کر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جنون عشق کو مات دیدے گا۔ مگر مودی کو معلوم نہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کشمیر میں جذبہ آزادی اور جوش حریت عروج پر ہے۔ اب کشمیر کا ہر پیرو جوان‘ مردوزن اور عام و خاص اسے عشق کی بازی سمجھتا ہے تبھی تو اہل کشمیر اپنا سب کچھ اس بازی پر لگانے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس موقع کے لئے ہی تو فیض احمد فیض نے کہا تھا گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں تاہم بوڑھے کشمیری مجاہد نے اپنی قوم کو حق الیقین عطا کیا ہے کہ تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے اور انشاء اللہ اس بازی میں آخری فتح تمہاری ہو گی۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت کم و بیش 28سیاسی جماعتیں ہیں۔سید علی گیلانی کی تحریک حریت اور میر واعظ عمر فاروق کی پارٹی دونوں آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہیں۔ یاسین ملک نے تہاڑ جیل میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے باوجود ہر لالچ اوردبائو کو رد کر دیا ہے اور کل جماعتی حریت کانفرنس کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے اب تو پی ڈی پی کی سابقہ وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے گزشتہ روز آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس میں کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے سیکرٹری جنرل غلام نبی آزاد بھی کشمیری رہنمائوں کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ محبوبہ مفتی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 370کو بھارتی پارلیمنٹ ختم کرے یا بھارتی سپریم کورٹ، ہر دو صورتوں میں اہل کشمیر من حیث القوم اسے مسترد کر دیں گے اور دفعہ 370کا دفاع کریں گے۔ میں تو گزشتہ دو تین گھنٹوں سے کلبۂ احزاں میں بیٹھا خامہ فرسائی کر رہا ہوں جبکہ یہ وقت رسم شبیری کا ہے خامہ فرسائی کا نہیں۔ بھارت نے تو جو کرنا تھا وہ کر دکھایا۔ اب باری پاکستان کی ہے۔ ابھی تک پاکستان کی کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ حکومت فی الفور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام بھی کرے۔ نیز بلاتاخیر سلامتی کونسل اور او آئی سی کے اجلاس بلائے۔ انگریزی اور عربی بولنے والے پاکستانی دانشوروں اور پاکستانی نژاد امریکیوں کے ساتھ امریکی سینیٹروں سے ملاقاتیں کریں۔ اور سلامتی کونسل و اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بنیاد پر اہل کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اگلے چند ہفتوں کے لئے پاکستان میں الزام تراشی والی سیاست کو معطل کر دی جائے اور ساری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوارکا منظر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ بھارت کی اقتصادی رگ عربوں کے ہاتھ میں اور ان کی سیاسی رگ امریکہ کی دسترس میں ہے۔ اب یہ ہماری سفارت کاری کا امتحان ہے کہ ہمیں ان دونوں اطراف سے بھارت پر کتنا دبائو ڈلوا سکتے ہیں۔ اب ہمیں دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے ساتھ کوئی گیم نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ فی الواقع کشمیری مسلمانوں کو ان کا حق دلوانے میں سنجیدہ ہیں۔ بوڑھے کشمیری مجاہد سیدعلی گیلانی کی للکار سے ابھی تک وادی کے دروبام گونج رہے ہیںاور بھارتی ایوان لرز رہے ہیں۔ اب ان کی پکار امت مسلمہ کے ہر صاحب احساس کے درِ دل پر دستک دے رہی ہے۔ کشمیری اس انتظار میں ہیں کہ ہمیں اپنی شہ رگ قراردینے والا پاکستان سید گیلانی کی پکار کا کیا جواب دیتا ہے۔