سکھر،راولپنڈی (رپورٹر92نیوز،نیوز ایجنسیاں) احتساب عدالت سکھر کے جج امیر علی مہیسر نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں9روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب سکھر کے حوالے کر دیا، عدالت نے نیب کی 15روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت یکم اکتوبر کوخورشید شاہ سے تفتیش می پیش رفت کی رپورٹ بھی طلب کرلی،عدالت نے خورشید شاہ کو تمام طبی سہولتیں فراہم کرنے ، گھر سے کھانا منگوانے اور اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت بھی دیدی۔ جج نے نیب پراسیکیوٹر سے کہاآپ نے خورشید شاہ کی گرفتاری اور الزامات کے حوالہ سے کاغذات جمع نہیں کرائے ، آدھے گھنٹے کا وقت دیتا ہوں نیب تمام کاغذات جمع کرائے ۔جس پر نیب ٹیم نے شواہد عدالت میں پیش کردیئے ۔ اس موقع پر عدالت کے باہر سینکڑوں پی پی پی کارکن موجود تھے ۔ادھرخصوصی احتساب عدالت راولپنڈی کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور جعلی اکائونٹس کیس میں گرفتارسابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائم خانی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے نیب کی تحویل میں دے دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو23ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ اور ان کا طبی معائنہ کرایااور علاج کی سہولت دی جائے ۔احتساب عدالت سکھر نے جعلی اکائونٹس کیس میں گرفتار وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اعجاز جاکھرانی کے بھائی غلام عباس کو8روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔