لاہور (رانا محمد عظیم )بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ایک اور خوفناک منصوبہ بے نقاب ہو گیا، مودی سرکار نے جنونی ہندوؤں کیساتھ ساتھ مقبوضہ وادی میں 3 ہزار اسرائیلیوں کو بھی آ باد کرنے پر کام شروع کر دیا ، جن میں موساد سے تعلق رکھنے والے 332افراد بھی شامل ہیں۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ بے پناہ ظلم ، کرفیو، لاک ڈاؤن کے باوجود بھی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی کے بعد مودی نے اسرائیل کیساتھ مل کر ایک خوفناک منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے ، جسکے تحت آر ایس ایس کے غنڈوں اور 3 ہزار اسرائیلیوں کی آبادکاری پر کام شروع کیا جا چکا ہے ۔ان افراد کو مختلف ناموں سے آباد کیا جا رہا ہے اور ایجوکیشن،ہسپتال اور خوراک کے شعبے انکے حوالے کئے جائینگے ۔ یہ اسرائیلی تعلیمی اداروں میں ایسی تعلیم رائج کرینگے اور بچوں کی اس طرح سے ذہنی نشوونما کرینگے کہ وہ اسلام سے دور ہو جائیں اور انکے اندرآ زادی کا جذبہ ختم ہو جائے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اہم افراد کو بھی اس لئے لایا گیا کہ وہ وہاں بیٹھ کر این ڈی ایس کو ساتھ ملائیں اور پاکستان کیخلاف منصوبے اور سازشیں تیز کر سکیں۔ان تینوں ملک دشمن ایجنسیوں نے افغانستان کے اندر بھی پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے اور یہ سب کچھ مقبوضہ کشمیر میں کرنے کا منصوبہ ہے ۔اسرائیلیوں کو مسلمانوں اور حریت رہنماؤں کیخلاف استعمال کیا جائیگا جبکہ انہیں بھارتی حکومت اور ’’را‘‘ کی مکمل سرپرستی حاصل ہوگی۔