آج چالیس برس گزر جانے کے باوجود اگر ذوالفقار علی بھٹو کا نام زندہ ہے تو یہ بھٹو کی شخصیت کا کرشمہ ہے یا اس کے خاندانی و سیاسی وارثوں کی سیاست کا کمال ہے؟ ہماری سیاست کے بعض ایسے واقعات اور شخصیات ہیں جن کی یاد تازہ کر کے آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں اور آدمی سوچنے لگتا ہے کہ کیا تقدیر کا لکھا ٹالا نہ جا سکتا تھا؟ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تمام تر ذہانت و فطانت کے باوجود ہماری سیاسی تاریخ کی ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 1973ء کا متفقہ آئین ہے۔ حصول وطن کے کئی برس بعد تک پاکستان ایک سرزمین بے آئین رہی۔ ایک طرف سیاسی قوتیں آئین سازی کے لئے شب و روز کوشاں تھیں تو دوسری طرف شخصی اقتدار کے لئے محلاتی سازشیں پروان چڑھتی رہیں۔ کبھی دستور ساز اسمبلی بنتی اورکبھی ٹوٹتی رہی۔ بالآخر جب ایک دستور 1956ء میں نافذ ہو گیا۔ یہ بات سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ایک آنکھ نہ بھائی اور صرف دو سال بعد اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان نے آئین کی بساط لپیٹ دی اور یوں مشرقی و مغربی پاکستان کے اتحاد کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی بنیادمیں ڈائنا مائٹ رکھ دیا گیا جو دسمبر 1971ء میں پھٹا اور ملک دولخت ہو گیا۔ ’’ادھر ہم اور ادھر تم‘‘کا دل گداز سانحہ برپا ہو گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد عوام میں مایوسی تھی۔ سیاست دانوں میں بے دلی تھی اور نوے ہزار قیدی بھارت کی تحویل میں تھے۔ ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست دانوں کو ساتھ شامل کر کے قومی اعتماد سازی اور آئین سازی دونوں کام تیز رفتاری اور چابکدستی سے انجام دیے۔ بھٹو خود ایک لبرل تھے مگر انہوں نے قومی امنگوں کے عین مطابق ایک متفقہ اسلامی جمہوری آئین منظور کروانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ آئین میں ہی آئین شکنی کے خلاف ایسی شقیں رکھی گئی ہیں جن کے مطابق جو آئین توڑے گا وہ غدار وطن کہلائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ مجھے براہ راست ایک بار نہیں کئی بار محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ وہ ہالینڈ سے پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر آئے تھے۔ محسن پاکستان نے بتایا کہ بھٹو نے ذاتی دلچسپی لیکر بیورو کریسی کے جمود نواز کل پرزوں کو میرے راستے سے ہٹایا۔ اس طرح بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ یہی ’’دفاعی بنیاد‘‘ آج خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی ضمانت ہے۔ بھٹو نے قادیانیت کا مسئلہ حل کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ مسئلہ جس کے بارے میں علامہ اقبال بہت متفکر تھے اور بعدازاں اس مسئلے پر پاکستان میں تحریک بھی چلی تھی۔ حتیٰ کہ نوبت قادیانیوں کے بائیکاٹ تک پہنچ چکی تھی۔ اس کے علاوہ بھٹو نے عوامی خواہشات کی ترجمانی کرتے ہوئے اور اپنے لبرل خیالات ایک طرف رکھتے ہوئے شراب نوشی اور قمار بازی پر پابندی عائد کر دی اور اسلامی دنیا کے بیشتر ممالک کی پیروی کرتے ہوئے جمعتہ المبارک کو ہفتہ وار چھٹی کا قانون پارلیمنٹ سے منظور کروایا۔ یہ تو وہ مثبت کام ہیں جو قدرت نے بھٹو کے ذریعے انجام دلوائے۔ بہرحال ان تمام کاموں یا کارناموں کا کریڈٹ بھٹو کو جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھٹو نے بعض ایسے منفی کام بھی کئے جنہوں نے ان کی شخصیت کو متنازعہ بنا دیا۔ بھٹو کی ٹریجڈی یہ تھی کہ ان کی انا پرستی ان کی ذہانت و دانش پر حاوی تھی۔ وہ کسی طرح کا کوئی ادنیٰ سا اختلاف بھی برداشت نہ کرتے تھے۔ جے اے رحیم پیپلز پارٹی کے فکری خالق اور سیکرٹری جنرل تھے۔ اتنے معزز و محترم شخص نے ایک پارٹی میٹنگ میں بھٹو کی رات گئے آمد پر صرف اتنا کہا کہ تمام ممبران کو چیئرمین سمیت وقت کی پابندی کرنی چاہیے۔ بھٹو کو تبصرہ سخت ناگوار گزرا اور اسی رات ایس ایف ایس کے ذریعے جے اے رحیم کو گھر سے اٹھا لیا گیا‘ اسے زدو کوب کیا گیا اور ہر طرح سے ان کی بہت بے عزتی کی گئی۔ بھٹو کی ہی ہدایت پر اپنے پارٹی ناقدین کو سبق سکھانے کے لئے کئی اور ممبران سے بھی انتہائی اہانت آمیز سلوک کیا گیا۔احمد رضا قصوری بھی بھٹو کے شدید ناقد تھے اور قصوری کے اسی رویے نے بھٹو کو ان کا مخالف بنا دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی ارکان کے علاوہ اپوزیشن کی کئی شخصیات کے خلاف بدترین قسم کا فسطائی رویہ اختیار کیا۔ بھٹو کے ہی دور میں کئی سیاسی رہنما قتل ہوئے جس کا الزام انہیں دیا گیا۔ خواجہ رفیق‘ ڈاکٹر نذیر شہید‘ عبدالصمد اچکزئی اور احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری قتل ہوئے تھے۔ اسی طرح بھٹو نے سیاست دانوں کو پس دیوار زنداں بھیجا جہاں ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ خان عبدالولی خان اور میاں طفیل محمد کے نام یاد آ رہے ہیں جن سے اس دور میں جیلوںمیں انتہائی بدسلوکی کی گئی۔بھٹو 1977ء کا انتخاب شاید جیت جاتے مگر انہوں نے بلا مقابلہ جیت کے لئے اپنے مدمقابل مولانا جان محمد عباسی کو اٹھوا لیا اور انہیں اپنے کاغذات نامزدگی جمع نہ کروانے دیئے۔ اس کے علاوہ سارے الیکشن میں دھاندلی کی گئی جس کے خلاف اپوزیشن نے تحریک چلائی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا الزام بھی بھٹو کو دیا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے حامیوں کا خیال ہے کہ بھٹو نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ مجیب الرحمن کے ساتھ مذاکرات نہ کئے اور بھٹو نے ہی یحییٰ خان کو ملٹری ایکشن کی راہ سجھائی۔ یحییٰ خان تو ملٹری ایکشن کے نتائج اور مابعد نتائج سے بے پروا تھے مگر بھٹو کواپنے تاریخی مطالعے سے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس ایکشن کا نتیجہ علیحدگی کے سوا کچھ اور نہ ہو گا اتنا ذہین و فطین شخص ایک ہولناک ٹریجڈی سے کیوں دوچار ہوا اور اپنے عوام کو وہ کچھ نہ دے سکا جس کا اس نے عوام سے وعدہ کیا تھا؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بھٹو کے پاس ذہانت تھی حکمت نہ تھی۔ ذہانت انا کی قوت ہے جبکہ حکمت و دانش انا کو کنٹرول کرتی ہے۔ ذہین شخص عوامی مقبولیت کی لہر پر سوار ہو کر سب کچھ بھول جاتا ہے جبکہ حکیم و دانا لیڈر نہ صرف منزل کی نشان دہی کرتا ہے بلکہ منزل تک قدم قدم پر قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ انا پرستی کا المیہ صرف بھٹو کے ساتھ نہ تھا یہ نواز شریف کے ساتھ بھی تھا اور ہے اور یہ عمران خان کے ساتھ بھی ہے۔ ہمارے قائدین کا بنیادی ہدف حصول اقتدار ہوتا ہے خدمت عوام نہیں۔ رہا بنیادی سوال جس کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا تھا کہ بھٹو کی کرشماتی شخصیت نے اسے زندہ رکھا ہے یا اس کے وارثوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ بھٹو نے پارٹی کو زندہ رکھا ہوا ہے جبکہ پارٹی نے بھٹو کو زندہ رکھا ہے اور اسے مرنے نہیں دیا۔