ماحول میں خدمت کے چراغ بھی ہیں اور نفرت کی باد سموم بھی۔ خدمت کے چراغوں کی لو بڑھائی جائے تو اس باد سموم کا حوصلہ پست ہوگا۔ بحرانی دور چیلنج بھی ہوتا ہے موقع بھی۔ یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ اسے چیلنج سمجھے یا موقع۔ چندروز پہلے دفتر کے واٹس ایپ نمبر پر ایک آڈیو مسیج موصول ہوا۔ اس میں ایک شخص جو، آواز سے نوجوان معلوم ہوتا ہے، یہ واضح کررہا ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے جب غریبوں اور ناداروں پر قیامت ٹوٹ پڑی اور روزگار چھن جانے کی وجہ سے ان کے گھروں کا چولہا سرد پڑ گیا تو محلے کے نوجوانوں نے کیا کیا۔ آڈیو پیغام کچھ اس طرح کا تھا:’’ہم نے منصوبہ بنایا کہ مطالبہ زر نہ کریں بلکہ اہل محلہ سے کہیں کہ اگر آپ کے گھر میں چھ افراد کا کھانا پکتا ہے تو سات افراد کیلئے تیار کیجئے اور ایک فرد کے کھانے کا ٹفن محلے میں فلاں جگہ رکھ دیجئے، ہم اسے مستحق ترین لوگوں تک پہنچا دینگے۔‘‘ یہ تھی اسکیم۔ اورنگ آباد کے ایک علاقے کی ایک چھوٹی سی اسکیم۔ مگر اس کا حیرت انگیز نتیجہ برآمد ہوا۔ آڈیو میں جس شخص کی آواز ہے (اس نے اپنا نام محمد شاکر بتایا) اس کا کہنا ہے کہ پہلے دن ہمیں ۳۶ ڈبے موصول ہوئے۔ مگر دیکھتے دیکھتے یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ پھر یہ ہوا کہ عطیہ دہندگان نے کئی کئی کلو اناج فراہم کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے سیکڑوں نادار خاندانوں کی غذائی کفالت ممکن ہوسکی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ آڈیو پیغام دینے والے محمد شاکر نے اخیر میں گزارش کی کہ جہاں جہاں کے غریب عوام کو فاقہ کشی کی نوبت ہے وہاں وہاں اس طرح کی اسکیم جاری کردی جائے تو بہت ممکن ہے کہ ہمارے آس پاس کوئی بھوکا نہ سوئے۔آڈیو پیغام میں کم و بیش ایک درجن بستیوں کے نام بتائے گئے جہاں غذائی تقسیم روزانہ جاری ہے۔ یہ اعتراف ہر خاص و عام کریگا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے، اِن حالات میں سماج کے نچلے طبقے کی فکر میں ہر شہر کے متعدد افراد، گروہوں اور تنظیموں نے خدمت کو اپنا شعار بنایا اور کہیں ۲ سو تو کہیں ۲ ہزار افراد اور کہیں اس سے بھی زیادہ کیلئے غذا کی تقسیم کا کارِ خیر انجام دیا جانے لگا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اتنے جوش و جذبے کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے کہ حیرت انگیز مسرت ہوتی ہے۔ نہ تو وسائل کی کمی سد راہ بن رہی ہے نہ ہی اْکتاہٹ سر اْبھار رہی ہے۔ میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ فراہمی وسائل کیلئے اْن کے پاس لوگوں نے اپنے نام لکھوا رکھے ہیں کہ جب بھی ضرورت ہو ایک فون کی زحمت گوارا کرلیجئے۔ میرے اصرار کے باوجود اْنہو ں نے مجھے اس فہرست میں شامل نہیں کیا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ممبئی کے مضافاتی علاقہ کھار کے ایک معروف ریستوراں کا کاروبار لاک ڈائون کی وجہ سے بند ہوا تو اس کے انتظامیہ نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ اشتراک کیا تاکہ اْن بستیوں میں غذائی پیکٹ فراہم کئے جاسکیں جہاں کے لوگوں پر فاقہ کشی کی نوبت آسکتی ہے۔ چنانچہ اس ریستوراں نے دھاراوی کی جھوپڑ پٹی اور بی ایم سی کے نچلے درجے کے ملازمین کی بستیوں میں فوڈ پیکٹس کی تقسیم شروع کی۔ یہ ادارے اپنی مشترکہ کاوشوں سے روزانہ ۲ ہزار پیکٹ تقسیم کررہے تھے۔ ایسی ہزاروں سچی داستانیں ملک کے طول و عرض میں بکھری پڑی ہیں۔ لوگ جذبۂ انسانیت سے معمور ہیں۔ لوگ لاک ڈائون کے اپنے فاضل وقت کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ رضاکارو ں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ جب تک دوسروں کو کھلا نہیں دیں گے تب تک کھائیں گے نہیں کا جذبہ اْن کی اصل پہچان بنا ہوا ہے۔ ممبئی کے کئی گروپس ایسے ہیں جنہوں نے منع کیا کہ ہمارا نام ظاہر نہ ہونے دیجئے یہ کارِ خیر ہے، ہم اس کی تشہیر نہیں چاہتے۔ سوچئے کتنی بڑی بات ہے!ایسی کارگزاریوں کی تفصیل سن کر یا پڑھ کر بڑی طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ توثیق ہوتی ہے کہ انسانیت زندہ ہے۔ اس کے برخلاف وہ رپورٹیں ہیں جن سے دلی تکلیف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک طبقے پر کورونا وائرس کے پھیلائو کا الزام لگا کر اْس طبقے کو متہم کرنا اور اس طرح سماج کو منقسم کرنا۔ مثال کے طور پر مسلم سبزی فروش کو کالونی میں داخل نہ ہونے دینا اور اس طرح نفرت کے بیج بونا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر آئے دن ایسی خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے میں ،یہ فیصلہ بہت ضروری ہے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں ، اْن لوگوں کے ساتھ جو خود کو خدمت کیلئے وقف کئے ہوئے ہیں (اول الذکر مثالیں ) یا اْن لوگوں کے ساتھ جو نفرت پھیلا رہے ہیں (آخر الذکر مثالیں )۔ کہنے کو تو ہر شخص کہے گا کہ ہم آخر الذکر کے ساتھ نہیں ہیں مگر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پیغامات کو دیکھنا اورسننا، اْن کا اثر لینا، اپنی طبیعت میں ہیجان پیدا کرنا اور اْن پوسٹس کا دوسروں کو فارورڈ کرنا کیا ہے؟ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ حرکت نفرت پھیلانے والوں کو شہ دینے اور اْنہیں اپنے مذموم مقصد میں کامیاب کرنے یعنی اْن کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خدمت ایک اچھا تاثر قائم کرتی ہے، اس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے دْعا نکلتی ہے، مختلف فرقوں اور طبقوں میں دوستانہ تعلق پیدا ہوتا ہے، جو بھی سنتا ہے وہ ایسے اقدام کی قدر کرتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس سے انسان دوستی پروان چڑھتی ہے۔ اسی لئے مَیں دْہرانا چاہوں گا کہ یہ فیصلہ بہت ضروری ہے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں ، اْس مہم کے ساتھ جس سے خلق خدا کے چہرے مسرت و طمانیت سے دمک اْٹھیں یا بالواسطہ یا بلاواسطہ اْس مہم کے ساتھ جس کا مقصد نفرت پھیلانا اور سماج کو بانٹنا ہے۔ جس طرح فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے شجر کاری کو اہمیت دی جاتی ہے بالکل اْسی طرح سماج سے نفرت کم کرنے کیلئے خدمت کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہ بھی ایک طرح کی شجر کاری ہے۔ اس میں دلوں کو جیتنے کی طاقت ہے۔ رہی نفرت تو ’’کورونا‘‘ کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی چین ٹوٹنی چاہئے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت بھی ایک چین کی شکل میں پھیلتی ہے۔ ہر شخص اس چین کو توڑے تو شرپسندوں کا حوصلہ خودبخود ٹوٹے گا۔ ٹوٹا نہیں تو کمزور تو ضرور پڑے گا۔ (روزنامہ انقلاب بھارت )