وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور مشیر قومی سلامتی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے ڈوزئیر میڈیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ڈوزئیر 18صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 113حوالے شامل ہیں، جنگی جرائم کے 3ہزار 432کیسز کا تذکرہ بھی شامل ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت داعش کے 5کیمپ چلا رہا ہے۔ القاعدہ سے الگ ہو کر چند افراد نے شدت پسند نظریات کی ترویج کے لئے دولت اسلامیہ العراق و الشام کے نام سے ایک جہادی گروپ کا اعلان کیا تھا۔شروع میں یہ گروپ عراق اور شام میں سرگرم تھا، بعدازاں اس میں دیگر کالعدم شدت پسند تنظیموں کے لوگ شامل ہو گئے، تو اس نے افغانستان کے صوبہ خراسان کو اپنا مسکن بنایا اور دنیا بھر سے لوگوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ایک اندازے کے مطابق اس شدت پسند تنظیم میں ہزاروں جنگجو شامل ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی جہادیوں کی بھی شامل ہے۔اس وقت یہ تنظیم اپنے شدت پسند نظریات کے باعث القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔آئی ایس آئی کی صفوں میں برطانیہ‘فرانس ‘جرمنی ‘امریکہ ‘عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں۔گو امریکہ نے داعش کے خلاف شام اور عراق میں فیصلہ کن کارروائی کی ہے جس بنا پر اس گروپ کا زور ٹوٹا ہے، ورنہ یہ اپنے شدت پسند نظریہ کی بنا پر کئی متحارب مذہبی گروپوں کو ساتھ شامل کر کے قتل وغارت کر رہا ہوتا۔امریکہ نے افغانستان سے انخلا کے وقت طالبان سے جو معاہدے کئے ہیں،ان میں داعش کے خلاف کارروائی ترجیح سطح پر شامل ہے۔افغان طالبان اس گروپ کے خلاف کارروائی کر بھی رہے ہیں لیکن پاکستان کے دفتر خارجہ نے بڑے ثبوت کے ساتھ بھارت کا مکروہ اور دہشت گردانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے کہ بھارت شدت پسند گروپ داعش کے پانچ گروپ چلا رہا ہے۔دنیا عراق اور شام میں داعش کی کارروائیوں سے آگاہ ہے۔داعش پر عراق اور شام کے بعد افغانستان کی سرزمین بھی تنگ ہوئی ہے تو بھارت نے اس کی سرپرستی شروع کر دی ہے۔دنیا کے لئے یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے کیونکہ داعش بھارتی پیسے‘اسلحے اور سرپرستی کے ساتھ دنیا کا امن غارت کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔امریکہ کو اس کا فی الفور نوٹس لینا چاہیے اور پاکستانی دفتر خارجہ کے ثبوتوں کی روشنی میں بھارت میں قائم اس شدت پسند گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کرنی چاہیے‘اگر امریکہ نے اب دیر کر دی تو اسے ایک بار پھر نائن الیون جیسے سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اب کی بار اس سانحے کا مرکزی کردار بھارت ہو گا۔اس لئے دنیا کو اب افغانستان سے بھی زیادہ خطرہ بھارت سے ہے کیونکہ بھارت داعش کی سرپرستی کرکے اسے پالنے پوسنے والا ملک ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کا ڈوزئیر شائع کیا ہے ۔جس میں بھارتی افواج کی درندگی بربریت اور انتہا پسندی بتائی گئی ہے۔ویسے تو کشمیری عوام 73برسوں سے ہی محصور ہیں لیکن 5اگست 2019ء سے ان پر آزاد فضا میں سانس لینا بھی محال ہے۔ان 769دنوں میں کشمیریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے،اس پر نہ توانسانی حقوق کی تنظیمیں بول رہی ہے نہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو کچھ ہوا ہے حالانکہ بھارت کشمیری خواتین کی آزادی کو چھین چکا ہے۔ان سے تعلیم‘سفر ‘راحت اور سکون نام کی ہر چیز چھینی جا چکی ہے۔معصوم بچوں کو والدین کے سامنے قتل کیا جاتا ہے۔جس پر وہ رو بھی نہیں سکتے۔اپنے عزیزوں کے جنازوں کو کندھا نہیں دے سکتے۔کشمیری لیڈر سید علی گیلانی کے انتقال پر ان کی میت کو رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا جبکہ اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو بھی جنازے میں شرکت سے محروم رکھا۔پاکستان بڑے واضح ثبوتوں کے ساتھ بھارت کے جنگی جرائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکا ہے۔جنگی جرائم میں ایک میجر جنرل ‘5بریگیڈئرز ‘4آئی جیز‘ 7ڈی آئی جیز‘131کرنلز ‘186میجرز اور کیپٹنز شامل ہیں۔بھارت کے جنگی جرائم کی تعداد 3ہزار 432 ہے۔پاکستان نے بڑے ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89گائوں میں 8ہزار 652اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔جس میں سے 54قبروں میں 22افراد بلکہ 23قبروں میں 17سے زائد افراد کی لاشیں تھیں۔اس کے علاوہ 10ہزار کشمیریوں کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے ۔ 2019 ء سے لے کر ابھی تک 12 ہزار کشمیری بچوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔پاکستان کا عالمی برادری سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق کی جانے والی خلاف ورزیوں پر عالمی ادارہ نئی دہلی پر پابندیاں نافذ کیوں نہیں کرتا۔یورپی یونین آج تک بھارت پر پابندی عائد کیوں نہیں کر سکی۔برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی جس کے بعد اس نے انسانی حقوق کے متعلق سخت قوانین تشکیل دیے لیکن مالی فوائد کے پیش نظر وہ بھی بھارت پر دبائو نہیں ڈال رہا۔ عالمی برادری کا دوہرا رویہ قابل تشویش ہے۔ اسے دنیا بھر کے لئے ایک جیسا ہی لائحہ عمل رکھنا چاہیے۔ تاکہ کوئی بھی ملک اقربا پروری پر انگلی نہ اٹھا سکے۔پاکستان نے بڑے واضح ثبوتوں کے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے واضح کیا ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو بھارت کے داعش کا سرپرست بننے پر ایکشن لینا چاہیے اور کشمیر کی صورتحال پر بھی بھارت کو واضح پیغام دینا چاہیے تاکہ کشمیریوں کی نسل کشی روکی جا سکے اس سلسلے میں عالمی برادری اپناکردار ادا کرے۔