مکرمی! معروف عالمی جریدے دی اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار ملک اب آمرانہ اور ظالمانہ مستقبل کی طرف گامزن ہے۔ جہاں صرف طاقت اور طاقتور کا ہی بول بالا ہے۔اس ملک میں من پسند لوگوں کی حکومتی پشت پناہی 'مودی" کے بھارت کا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس ملک کے تمام ادارے بشمول عدلیہ بھی اب بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں آلہ کار ثابت ہو رہی ہے۔مودی سرکار نے 5 اگست 2019ئ￿ کو مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ حکمرانی مسلط کی۔یہاں پر اس دوران ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن بھارتی عدلیہ نے اس ظلم پر مکمل خاموش چھائی رہی۔ غیرقانونی دراندازی کے روک تھام معروف قانون (یو اے پی اے) میں حالیہ ترمیمی بل میں کئی گئی ترامیم کی آڑ میں مسلمانوں کو دہشتگردی کے الزام میں شدت سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ آزادی اظہار پر بھی نئے غاصبانہ قانون بنائے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے حکومتی پشت پناہی میں شہریت ترمیمی ایکٹ 2019ئ￿ کے خلاف مظاہروں کے دوران مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھائے گئے۔ جس پر عدلیہ نے اب تک صرف خاموشی سے تماشا ہی دیکھا ہے۔ معلومات کے حصول کے حق سے متعلق قوانین میں ترامیم سے بھی مودی کے غاصبانہ عزائم کا ایک اور ثبوت ہے۔ بھارتی وزراء کی اداروں کے اختیارات میں مداخلت عام سی بات ہے۔ جس کی تازہ مثال متنازعہ صحافی ارناب گوسوامی ہیں۔ ان عدالتوں میں ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ بے گناہ لوگ برس ہا برس سے انصاف کے منتظر ہیں۔ ( شہزاد احمد، ملتان)