لاہور(خصوصی نمائندہ)معروف صحافی وکالم نگار رحمت علی رازی دلیر، خود دار،سچے ،بااصول انسان تھے ،شعبہ صحافت کیلئے ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے ،مٹی سے جڑے انسان اور سچے عاشق رسول تھے ،ان خیالات کا اظہار ایڈیٹر انچیف روزنامہ 92نیوزاورسی پی این ای پنجاب کے صدر محمد حیدر امین ،صوبائی وزیراطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال ،سنیئر صحافیوں اور کونسل آف پاکستان نیوزپیپرایڈیٹرز کے عہدیداروں نے معروف صحافی ،کالم نگاراورعزم میڈیاگروپ کے چیئرمین رحمت علی رازی کی یادمیں سی پی این ای کے زیراہتمام ایوان اقبال میں منعقد تعزیتی ریفرنس کے موقع پر کیا۔مرحوم کے صاحبزادے اویس رازی نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور ریفرنس سے خطاب بھی کیا۔ چوہدری غلام غوث نے تعزیتی ریفرنس کا آغاز خصوصی نعت سے کیا اور مرحوم کی ذات کیلئے ابتدائیہ کلمات ادا کئے ۔ مہمان خصوصی صوبائی وزیراطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رحمت علی رازی اچھی شخصیت کے مالک اور شفیق انسان تھے ، وہ آج بھی ہم سب کے دلوں میں زندہ ہیں۔میں کوشش کرونگاکہ صحافیوں اورصحافتی اداروں کو درپیش مسائل کومل بیٹھ کر حل کیا جاسکے ۔ ہم’’نیا پاکستان‘‘ تصور کیلئے آخری حد تک جائینگے ، اس ملک کو ٹھیک کرینگے ، اس کو چھوڑ کر نہیں جائینگے ۔ اپنے بچوں کیلئے ایسا پاکستان چھوڑکرجائینگے جہاں انصاف کا بول بالاہوگا۔ بدقسمتی سے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور معاشرے میں جھوٹ کا بول بالا ہے ۔جلسے ، جلسوس نکالنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے لیکن عوام کوسچ بتایا جائے ۔ عمران خان کا تصور تھا دو نہیں ایک پاکستان، لیکن ابھی تک ایک پاکستان نظرنہیں آرہا، جیلوں میں امیر و غریب کیساتھ دو سلوک ہو رہے ہیں۔جھوٹ کو سچ بنا کرحکومتی مشینری کو مفلوج کرنے کی کوشش کرنیوالے یاد رکھیں ، جھوٹ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔صدرسی پی این ای اور 92نیوز گروپ کے تجزیہ کار وکالم نگار عارف نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رحمت علی رازی سے پہلی ملاقات نوائے وقت میں ہوئی،آخری ملاقات کے وقت انکے ساتھ چند دن بعد تفصیلی ملاقات طے ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد انکے انتقال کی افسوسناک خبر ملی،انہوں نے مٹی سے رشتے کو نہیں چھوڑا جو انکی منفرد پہچان تھی۔رحمت رازی بھی محنتی انسان تھے اور حساس شخصیت کے مالک تھے ، اویس رازی کو یقین دلاتے ہیں کہ سی پی این ای ان کیساتھ کھڑی ہے اورانکے ادارے کا ساتھ دیتی رہے گی۔ ایڈیٹر انچیف روزنامہ 92نیوزاورسی پی این ای پنجاب کے صدر محمد حیدر امین نے ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ رحمت علی رازی سے میرے والد کا پرانا تعلق تھا اور میری ان سے باقاعدہ ملاقات سی پی این ای میں ہوئی ۔رحمت علی رازی شعبہ صحافت کیلئے اپنی ذات میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے ،ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا،انکے صاحبزادے اویس رازی انکے عز م کو آگے لیکر چل رہے ہیں اور ہم ہر قدم پر انکے ساتھ ہونگے ۔ گروپ ایڈیٹر روزنامہ 92نیوز،کالم نگار وتجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا کہ میرا رحمت علی رازی سے دیرینہ ساتھ تھا، اﷲ تعالی نے انہیں جرات اوربہادری سے نوازاتھا ، وہ اپنی زمین اورکلچرسے جڑے رہے ،انہوں نے اپنے عزم کو طاقت بنایا اورصحافت میں نام پیداکیا،میرارحمت رازی سے تعلق 40سال پر محیط تھا ،ایک ہی ادارے میں 15سال اکٹھے کام کیا،وہ منفرد طرز کے صحافی تھے ،بہادر،خوددار،منکسرالمزاج اور دوست نواز انسان تھے ،سچے عاشق رسول تھے ،رات کوعبادت کرنا انکا معمول تھا،رحمت رازی اپنے کلچر اور اپنی جڑوں کیساتھ مضبوط رہے ،اپنے بیک گرائونڈ پر کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوئے بلکہ اپنے بیک گرائونڈ کو اپنی طاقت بنایا۔سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل جبارخٹک نے کہا رحمت علی رازی زندہ دل اورہنس مکھ انسان تھے ۔ رحمت علی رازی اپنے لباس اورکلچرکی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکزبنے رہتے تھے ۔سینئرصحافی جمیل اطہر نے کہا کہ صحافتی شعبہ میں سب سے پرانا تعلق رحمت علی رازی سے میرا ہے ۔ رحمت علی رازی 1974 میں لاہورآئے ، اس سے قبل وہ ملک غلام بخش بچہ کے پولٹری فارم پرمینجرتھے ۔ رحمت علی رازی نے صحافت کے شعبہ میں اپنے لئے بیوروکریسی کی بیٹ کوپسندکیا، سات ایوارڈجیتے جبکہ حکومت کی طرف سے بھی انہیں ایوارڈسے نوازاگیا۔رحمت علی رازی قناعت اورتوکل پسندآدمی تھے ۔ریفرنس میں ایاز خان،خضر حیات گوندل،مقصود عادل،امجد وڑائچ ،انور حسین سمرائ،ذوالفقار راحت،امتیاز عالم،خالد قیوم اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔