اسلام آباد(خبر نگار)پاکستان بار کونسل نے وفاقی وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا لائسنس معطل کرنے کا معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پاکستان بار کونسل نے اپنی سفارشات میں وزیر قانون کو لائسنس معطلی کے معاملے میں قانون کی خلاف ورزی پر اپنی سفارشات میں لکھا ہے کہ قانون کے مطابق سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا وکیل کسی سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے بعد لائسنس معطل کرانے کا پابند ہوتا ہے لیکن فروغ نسیم نے اپنا لائسنس معطل نہیں کرایا۔ جاری اعلامیہ کے مطابق بار کونسل نے سپریم کورٹ کے حکم کے تابع معاملہ کا جائزہ لیا اور وزیر قانون کو پانچ بارشوکازنوٹس جاری کئے لیکن وزیر قانون نے آخری شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا کہ کونسل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے جس پر پاکستان بار کونسل نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وزیر قانون کا اقدام مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے ۔ انضباطی کمیٹی سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں معاملہ کا جائزہ لے گی ۔