کورونا وبا کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے 10نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ ورچوئل اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے اپنے منصوبے کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پسماندہ ممالک کے قرضے معاف کئے جائیں‘ کم شرح پر قلیل المدتی قرضے فراہم کئے جائیں‘ قرضوں میں ریلیف کی مدت کو وبا کے خاتمہ تک برقرار رکھا جائے‘ ترقی یافتہ ممالک میں پسماندہ ممالک کے بدعنوان سیاست دانوں اور جرائم پیشہ افراد کی ملک سے لوٹی رقم واپس کی جائے‘ وزیر اعظم نے تجویز پیش کی کہ بین الاقوامی تنازعات کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے‘ انہوں نے کورونا سے بچائو کی ویکسین کی سب ممالک میں مساوی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ رواں برس کے آغاز میں ہمسایہ دوست ملک چین اور ایران میں کورونا کی وبا پھوٹ پڑی۔ دونوں ملکوں میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں پاکستانیوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ فروری میں ایران سے واپس لوٹنے والے زائرین کے ذریعے کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا۔کورونا کی وبا نئی ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کے ان تمام ممالک کے پاس اس کے انسداد‘ علاج اور احتیاطی تدابیر کا کوئی آزمودہ طریقہ میسر نہ تھا۔ سب ممالک اس افتاد سے پریشان تھے اور اپنے اپنے انداز میں اس سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت نے چین میں وبا کے کنٹرول کے لئے کئے گئے اقدامات کو ایس او پیز کا درجہ دے کر سب کو ان کی پابندی کی ہدایت کی۔ ہاتھوں کو بار بار دھونا‘ جراثیم کش محلول کا استعمال‘ ناک اور منہ کو ماسک سے ڈھانپنا ضروری قرار دیا گیا۔ تاکید کی گئی کہ ہر شخص دوسرے سے کم از کم چھ فٹ کے فاصلے پر رہے‘ اسے سماجی فاصلہ کہا گیا۔ کورونا انسداد کے ایس او پیز افراد کے لئے ہیں۔ ہر فرد ان پر عمل کر کے کورونا سے خود کو بچا سکتا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں پر کورونا کے اثرات ایک مختلف انداز میں مرتب ہوئے۔ سرکاری اداروں میں ایس او پیز پر عمل کی صورت میں کچھ عملے کو حاضریوں سے استثنیٰ دیا گیا‘ تعلیمی ادارے‘ جم‘ کلب‘ بیوٹی پارلر‘ شادی ہال اور دکانیں بند کر دی گئیں۔ کارخانوں پر تالے پڑ گئے‘ ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی تاکہ کورونا کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو روکا جا سکے۔ تاریخ میں لاک ڈائون کی اصطلاح جنگ یا ہڑتال کے دوران استعمال ہوتی رہی ہے‘ اس بار کورونا کا پھیلائو روکنے کی غرض سے دکانوں اور نقل و حرکت پر پابندی کو لاک ڈائون کا نام دیا گیا۔ لاک ڈائون نے کاروبار اور پیداواری عمل پر منفی اثرات مرتب کئے۔ دنیا کے دولت مند اور صنعتی ترقی کے حامل ممالک کی شرح نمو تیزی سے کم ہونے لگی۔ غریب اور پسماندہ ممالک کی حالت اور بھی پتلی تھی۔ ایک طرف پیداواری عمل رک گیا دوسری طرف عالمی بنک‘ آئی ایم ایف اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرض اور اس قرض پر عاید سود کی ادائیگی ناممکن دکھائی دینے لگی۔ فروری سے دسمبر 2020ء تک پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں منجمد رہی ہیں‘ اس دوران اگر کہیں محدود سی کاروباری بحالی دکھائی دی تو اس سے بھی مجموعی صورت حال پر کوئی خاطر خواہ مثبت اثر رونما نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ پسماندہ اور غریب ممالک کے لئے کورونا کی وبا کا انسداد اور شہریوں کی بنیادی ضروریات بیک وقت پورا کرنا مشکل ہو گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس جنرل اسمبلی کے سربراہ اجلاس کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ قرض دینے والے عالمی ادارے اور دولت مند ممالک غریب ریاستوں کو قرض معاف کرنے اور قرض کی ادائیگی میں رعائتوں کا اعلان کریں۔وزیر اعظم نے صرف اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں بلکہ متعدد دوسرے عالمی پلیٹ فارمز اور عالمی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بھی متعدد بار اس نوع کی تجاویز پیش کیں۔ یقینا پاکستان کے اپنے حالات کے تناظر میں ان تجاویز پر عالمی برادری کا ہمدردانہ غور ضروری ہے تاہم بات صرف پاکستان کی نہیں کورونا نے تمام دنیا کو سماجی اور معاشی سطح پر متاثر کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے 10نکاتی منصوبے میں جن تجاویز کو شامل کیا گیا ہے وہ کورونا سے متاثرہ ممالک کی معیشت اور ترقیاتی ڈھانچے کو بحال کرنے کی قابل قدر کوشش ہے۔ دولت مند ممالک نے جو سرمایہ جمع کیا ہے اس میں غریب ممالک کے وسائل کا استعمال شامل ہے۔ غریب ممالک ان بڑی ریاستوں اور مالیاتی اداروں کے لئے کلائنٹ کا درجہ بھی رکھتے ہیں‘ قرض دینا اور پھر اس پر منافع وصول کرنا ایک کاروبار ہے۔ اس مارکیٹ میں ایک سو سے زیادہ ممالک صارف کے طور پر زندہ ہیں۔کورونا کے انسداد کے لئے ضروری انتظامات اور طبی سہولیات کی فراہمی پر اخراجات ان غریب ملکوں پر اضافی مالیاتی بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔قرضوں کی معافی یا ادائیگی میں ریلیف سے پسماندہ ممالک کے لئے گنجائش پیدا ہو گی کہ وہ اپنے محدود وسائل کا کچھ حصہ بے روزگار ہونے والے خاندانوں کو خوراک کی فراہمی اور کورونا سے متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کر سکیں۔ ایسے حالات میں پسماندہ ممالک کی لوٹی دولت کو واپس کرنے سے جہاں بین الاقوامی سطح پر بدعنوانی کے خلاف موثر گرفت کی جا سکتی ہے وہاں دنیا کو بیماریوں اور آفات کے خلاف متحد کرنے کا موقع بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔